| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم بعض چیزوں سے فال لیتے تھے چنانچہ آپ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام آپ کو پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے ۱؎ اور اس کی خوشی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی ۲؎ اور جب کسی بستی میں جاتے تو اس کا نام پوچھتے تو اگر اس کا نام پسند فرماتے تو اس سے خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپ کے چہرہ انور میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند فرماتے تو آپ کے چہرہ میں اس کی ناپسندیدگی محسوس ہوتی ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے نام اچھے رکھو نام کا اثر نام والے پر پڑتاہے،برے نام والے کو لوگ اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے،اچھے نام والے کے کام بھی ان شاءاللہ اچھے ہوتے ہیں۔ ۲؎ یعنی حضور برے ناموں کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا جمرہ(انگارہ)کہا کس کا بیٹا ہے کہا شہاب کا(شعلہ)کہا تو کہاں رہتا ہے بولا حراقہ میں(جلن)کہا کس محلہ میں بولا بحرۃ النار میں(آگ کا دائرہ)فرمایا کس طرف بولا ذات نطی میں،آپ نے فرمایا تو اپنا گھر جا کر دیکھ جل چکا ہے دیکھا تو واقعی گھر اور گھر والے جل چکے تھے۔عرب کہتے ہیں الاسماء من السماء نام آسمان سے تعلق رکھتے ہیں۔(مرقات) اہل عرب اپنے بیٹو ں کا نام رکھتے تھے اسد(شیر) ذئب (بھیڑیا) کلب (کتا)اور اپنے غلاموں کے نام رکھتے تھےراشد نجیح اور کہتے تھے کہ ہمارے غلام ہماری خدمت کے لیے ہیں اور ہمارے بیٹے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں،غلاموں کے نام اچھے رکھو۔ ۳؎ ہمارے ہاں پنجاب میں بعض دیہات کے نام ہیں نور پور،مدینہ،جمالپور ایسے نام بڑے مبارک ہیں،بعض بستیوں کے نام ہیں شیطانیہ،خونی چک وغیرہ یہ نام اچھے نہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم بستیوں کے برے نام بھی ناپسند فرماتے تھے۔