| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دم پھونک سے منع فرمایا تو عمرو ابن حزم کے گھر والے آئے ۱؎ بولے یارسول اللہ ہمارے پاس دم ہے جسے ہم بچھو سے دم کرتے ہیں اور آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمادیا ۲؎ چنانچہ انہوں نے وہ حضور پر پیش کیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج ہم نہیں دیکھتے تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے وہ اسے نفع پہنچائے ۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ عمرو ابن حزم کی کنیت ابو الضحاک ہے انصاری ہیں غزوہ خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے غزوہ خندق میں پندرہ سالہ تھےحضور انور نے انہیں بحران کا حاکم بنایاتھا، ۱۰ دس میں،آپ کی وفات ۵۳ ترپن میں مدینہ منورہ میں ہوئی،ان کے اہلِ خانہ یعنی بھائی برادر بچے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ۲؎ یعنی ہم سب لوگ بچھو وغیرہ کے کاٹے پر دم کردیتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوتا ہے اگر اسے بند کردیں تو ایک فیض بند ہوجاوے گا حضور نے دعا سنانے کا حکم دیا۔ ۳؎ غالبًا وہ عربی زبان کے الفاظ تھے اگرچہ قرآنی آیت یا دعاء ماثورہ نہ تھی مگر اس کے الفاظ شرکیہ بھی نہ تھے۔ ہم نے بعض ورد اردو زبان کے دیکھے بہت زود اثر،آدھا سیسی کے لیے یہ دعا بڑی مفید ہے۔کالی چڑی کلچڑی کالا پھل کھائے اٹھو محمد آکھ دو کہ آدھا سیسی جائے،اس دعا میں کوئی لفظ شرک و کفر یا ناجائز نہیں۔بچہ پیدا ہونے میں اگر دشواری ہو تو یہ کوری ٹھیکری پر لکھ کر زچہ کے سر پر رکھی جاوے سر پر چینی کمر میں گھڑا نکل پڑی یا نکل پڑا۔