Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
365 - 975
حدیث نمبر 265
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھیں کاٹنے اور ناخن کترنے اور بغل اکھیڑنے اورزیر ناف کے بال مونڈھنے کے متعلق وقت یہ مقرر کیا گیا کہ ہم چالیس شب سے زیادہ نہ چھوڑیں ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی چالیس سے زیادہ دیر لگانا ممنوع ہے۔سنت یہ ہے کہ مونچھیں و ناخن ہر جمعہ کو کاٹے،زیر ناف کے بال بیس دن میں لے لہذا ہفتہ افضل ہے،پندرہ دن درمیانے،چالیس دن انتہائی مدت۔دراز ناخن سے روزی گھٹتی ہے۔حدیث شریف میں ہے جمعہ کے دن ناخن تراشے تو ان شاءاللہ دس دن تک بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔(مرقات)
حدیث نمبر 365
روایت ہے حضرت ام قیس سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم اپنی اولاد کو اس گلہ آنے سے کیوں دباتی ہو۲؎ تم اس عود ہندی کو اختیارکرو ۳؎ کہ اس میں سات شفائیں ہیں ان میں سے ذات الجنب بھی ہے گلے آنے سے نسوارلی جاوے اور ذات الجنب سے لیپ کیا جاوے ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ ام قیس بنت محصن اسدیہ ہیں،حضرت عکاشہ کی بہن قدیم الاسلام ہیں،ہجرت سے پہلے ایمان لائیں،آپ کو مہاجر ام قیس کہا جاتا ہے۔

۲؎ ان لفظوں کے معنی ابھی پچھلی حدیث میں عرض کیے گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں کو گلے آنے پر حلق دبانے سے منع فرمارہے ہیں۔علاق بمعنی علوق ہے یعنی حلقوم کی آفت ناگہانی گلے کی گلٹیاں۔

۳؎ عود ہندی نام ہے قسط بحری کا جس کا ذکر ابھی ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ قسط ہندی کا نام ہے دونوں قسط گلے آنے میں مفید ہیں۔

۴؎ یعنی گلہ آنے میں قسط بحری کو پانی میں حل کر کے ناک میں نسوارکراؤ اور پسلیوں کے درد میں اس کا پسلیوں پر لیپ کرو،ذات الجنب بڑا تکلیف دہ بلکہ مہلک مرض ہے اس میں بھی یہ دوا مفید ہے۔
Flag Counter