روایت ہے حضرت ام قیس سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم اپنی اولاد کو اس گلہ آنے سے کیوں دباتی ہو۲؎ تم اس عود ہندی کو اختیارکرو ۳؎ کہ اس میں سات شفائیں ہیں ان میں سے ذات الجنب بھی ہے گلے آنے سے نسوارلی جاوے اور ذات الجنب سے لیپ کیا جاوے ۴؎ (مسلم،بخاری)
۱؎ آپ ام قیس بنت محصن اسدیہ ہیں،حضرت عکاشہ کی بہن قدیم الاسلام ہیں،ہجرت سے پہلے ایمان لائیں،آپ کو مہاجر ام قیس کہا جاتا ہے۔
۲؎ ان لفظوں کے معنی ابھی پچھلی حدیث میں عرض کیے گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں کو گلے آنے پر حلق دبانے سے منع فرمارہے ہیں۔علاق بمعنی علوق ہے یعنی حلقوم کی آفت ناگہانی گلے کی گلٹیاں۔
۳؎ عود ہندی نام ہے قسط بحری کا جس کا ذکر ابھی ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ قسط ہندی کا نام ہے دونوں قسط گلے آنے میں مفید ہیں۔
۴؎ یعنی گلہ آنے میں قسط بحری کو پانی میں حل کر کے ناک میں نسوارکراؤ اور پسلیوں کے درد میں اس کا پسلیوں پر لیپ کرو،ذات الجنب بڑا تکلیف دہ بلکہ مہلک مرض ہے اس میں بھی یہ دوا مفید ہے۔