Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
340 - 975
حدیث نمبر 340
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ایسی خواب گھڑے جو اس نے دیکھی نہ ہو تو اسے مکلف کیا جاوے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے اور نہ کرسکے گا ۱؎ اور جو کسی قوم کی بات سنے حالانکہ وہ ناپسند کرتے ہوں یا اس سے بھاگتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالاجائے گا۲؎ اور جو تصویر بنائے تو اسے عذاب دیا جاوے گا اور مکلف کیا جاوے گا کہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ پھونکنے والا نہیں(بخاری)
شرح
۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ جھوٹی خواب گھڑنے سے مراد ہے نبوت یا ولایت کا دعویٰ کرنا اور لوگوں سے یہ کہنا کہ رب تعالیٰ نے یا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یا فلاں ولی نے مجھے خواب میں فرمایا ہے کہ تو نبی یا ولی ہے یا فلاں غیب کی مجھے خبردی ہے مگر حق یہ ہے کہ حدیث میں یہ کوئی قید نہیں ہر جھوٹی خواب گھڑنے والا اس سزا کا مستحق ہے خواہ کسی قسم کی خواب گھڑے کیونکہ مؤمن کی سچی خواب نبوت کا چھیالیسواں۴۶ حصہ ہے اور وحی خفی ہے تو خواب گھڑنے والا رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور وحی الٰہی جھوٹی گھڑتاہے اس لیے عام جھوٹوں سے یہ جھوٹ بڑا سخت جرم ہے، بعض لوگ تبلیغ کے بہانہ جھوٹی خوابیں کسی بڑے کی طرف نسبت کردیتے ہیں کہ حضور کے روضہ کے فلاں خادم نے خواب میں حضور کو دیکھا آپ نے فرمایا کہ قیامت عنقریب آرہی ہے فلاں فلاں باتیں وغیرہ یہ سب حرام ہیں۔جَو میں گرہ لگانے کا حکم دینا وجوب کے لیے نہیں بلکہ عاجز کرنے اور عذاب دینے کے لیے ہے۔

۲؎  یعنی جو دوسروں کی خفیہ بات چھپ کر سنے اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ گرم کرکے انڈیلا جاوے گا۔حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں،واقعی اسے قیامت میں یہ عذاب ہوگا کہ یہ بھی رازونیاز کا چور ہے۔
Flag Counter