Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
296 - 975
حدیث نمبر 296
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سبتی جوتے پہنتے تھے ۱؎  اور اپنی ڈاڑھی شریف کو ورس ۲؎ اور زعفران سے رنگتے تھے۳؎  اور حضرت ابن عمربھی یہ کرتے تھے۴؎(نسائی)
شرح
۱؎ جس کی کھال کے بال اڑا دیئے گئے ہوں۔سبت بمعنی حلق(منڈانا)عام عرب بال والے جوتے پہنتے تھے اب عمومًا بے بال کے جوتے بنتے ہیں۔

۲؎  ورس ایک گھاس ہے جو یمن میں پیدا ہوتی ہے پیلا رنگ دیتی ہے۔

۳؎  اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو کے لیے یہ گھاس یا زعفران ڈاڑھی شریف میں ملتے تھے جس سے ان کا رنگ سیاہ بالوں میں نمودار ہوجاتا تھا خضاب کے لیے نہیں کیونکہ حضور کی ڈاڑھی شریف سفید ہوئی نہیں پھر خضاب کیسا لہذا یہ حدیث حضرت انس کی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور نے خضاب نہ کیا،آپ کے کل بیس بال سفید تھے۔(اشعۃ اللمعات)مرقات نے کچھ اور توجیہ  کی ہے مگر  یہ توجیہ  قوی ہے اور اس سے احادیث کا اجتماع ہوجاتا ہے۔

۴؎  معلوم ہوا کہ زرد خضاب جائز ہے صرف سیاہ منع ہے۔
Flag Counter