۱؎ یعنی اپنے سر اور ڈاڑھی کے بال خالص سیاہ کیا کریں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے خالص سیاہ ہوتے ہیں۔ حواصل جمع ہے حوصلہ کی بمعنی معدہ یہاں سینہ مراد ہے بعض کبوتروں کے سینے سیاہ ہوتے ہیں۔
۲؎ حالانکہ جنت کی مہک پانچ سو سال کی راہ سے محسوس ہوتی ہے یعنی سیاہ خضاب کرنے والے جنت میں جانا تو کیا اس کے قریب بھی نہ پہنچیں گے یعنی اولًا بعد میں معافی ہوکر پہنچ جاویں گے تو دوسری بات ہے(مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ میدان محشر میں جنت کی خوشبو آتی ہوگی جو مسلمانوں کو محسوس ہوگی اس مہک سے مست ہو کر محشر کی شدت بھول جائیں گے مگر یہ سیاہ خصاب کرنے والے محشر میں یہ خوشبو محسوس نہ کرسکیں گے اور وہاں کی تکلیف محسوس کریں گے جیسے حوض کوثر کی ایک نہر محشر میں ہوگی جس سے مؤمن پانی پیتے رہیں گے منافق روک دیئے جائیں گے۔(اشعۃ اللمعات)اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ سیاہ خضاب حرام ہے خواہ سر میں لگائے یا ڈاڑھی میں مرد لگائے یا عورت اس سے معذوری کی حالت مستثنٰی ہے،علاج کے لیے یا غزوہ کے لیے سیاہ خضاب جائز ہے۔(مرقات)بعض لوگ مطلقًا سیاہ خضاب جائز کہتے ہیں،بعض لوگ عورتوں کے لیے جائز کہتے ہیں،بعض مردوں کے سر کے لیے جائز کہتے ہیں،ڈاڑھی کے لیے ممنوع مانتے ہیں،بعض لوگ اسے مکروہ تنزیہی کہتے ہیں یہ کل ضعیف ہیں۔صحیح وہ ہی ہے کہ سیاہ خضاب مطلقًا مکروہ تحریمی ہے۔مردوعورت،سر ڈاڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں۔(مرقات)ہاتھ پاؤں میں مہندی وغیرہ سے خضاب عورتوں کو جائز مردوں کے لیے ممنوع الابالعذر۔(مرقات)