Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
285 - 975
حدیث نمبر 285
روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے تو انہوں نے زعفران والی خلوق میرے لگادی ۱؎  پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گیا میں نے آپ پر سلام عرض کیا تو مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا جاؤ اسے اپنے جسم سے دھو دو ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  خلوق بغیر زعفران کی بھی ہوتی ہے اور زعفران والی اور یہ زخم کا علاج ہے جیسے آج کل ویسلین کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے اوریہ زخموں وغیرہ کا علاج بھی ہے،انکے زخم پر زعفرانی خلوق لگائی گئی تھی علاج کے لیے۔

۲؎  غالبًا اسی پھٹن کا علاج خلوق کے سواء اوربھی ہوگا جیسے موم و تیل وغیرہ یا ا س پر ناراضی ہے کہ تم اسے لگائے ہوئے باہر کیوں آئے یا اس پر کہ تم نے خلوق پر پانی بہاکر اس کا رنگ کیوں زائل نہ کردیا ورنہ مجبوری و معذوری میں معافی ہوتی ہے۔(مرقات و اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ اعلانیہ ناجائز کا ارتکاب کر نے والے کے سلام کا جواب نہ دینا تاکہ وہ اس گناہ سے توبہ کرے درست ہے اور ممکن ہے کہ حضور نے آہستہ جواب دیا ہو  جو  انہوں سے سنا  نہ گیا ہو،لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ  سلام کا جواب دینا فرض ہے  پھر حضور نے جواب کیوں نہ دیا جبکہ بزرگ ہستی کے جواب سلام نہ دینے سے اس کے گناہ چھوڑ دینے کی امید ہو تب یہ جواب نہ دینا ایک قسم کی تبلیغ ہے یہ توجیہ خیال میں رہے۔
Flag Counter