۱؎ اس طرح کہ لمبائی میں مٹھی بھر یعنی چار انگل سے زیادہ بالوں کو کاٹ دیتے تھے اور چوڑائی میں اس دائرے کے حد میں جو بال آتے باقی رکھے جاتے اس سے بڑھتے ہوئے کاٹ دیئے جاتے۔چار انگل تک ڈاڑھی رکھنا واجب ہے،ڈاڑھی منڈانا یا کتروانا فسق ہے ۔حضرت عبدا للہ ابن عمر رضی اللہ عنھما اپنے ڈاڑھی مٹھی میں پکڑتے تو جومٹھی سے باہر بال ہوتے انہیں کاٹ دیتے تھے وہ عمل اس حدیث کی شرح ہے۔یہاں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے بہت عرصہ تک ڈاڑھی نہ کٹوائی حتی کہ ڈاڑھی بہت بڑی ہوگئی تو اب اسے نہ کٹوائے بلکہ ویسی ہی رہنے دے۔(اشعہ)جن بزرگوں کی ڈاڑھیاں بہت لمبی دیکھی گئیں ہیں وہاں یہ ہی وجہ ہوئی ہوگی ۔غرضکہ چار انگل سے ہرگز کم نہ کرے مگر اس سے زیادتی اس کی دو صورتیں ہیں: کوشش کرتا رہے کہ زیادہ نہ ہونے پائے،اگر بہت زیادہ کرلی تو پھر ویسے ہی رہنے دے۔