Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
271 - 975
حدیث نمبر 271
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مخنث مردوں پر ۱؎ اور مرد بننے والی عورتوں پر لعنت کی۲؎  اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۳؎(بخاری)
شرح
۱؎  مخنث بنا ہے خنث سے بمعنی نرمی یا پیچیدگی۔مخنث وہ لوگ جو ہوں تو مرد مگر ان کی آواز وضع قطع عورتوں کی سی ہو۔مخنث دو قسم کے ہیں: ایک پیدائشی،دوسرے بناوٹی یہاں بناوٹی مخنثوں کا ذکر ہے انہیں پر لعنت ہے کہ پیدائشی مخنث تو مجبور ہے۔معلوم ہوا کہ مرد کا عورتوں کی طرح لباس پہننا،ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا،عورتوں کی طرح بولنا،ان کی حرکات و سکنات اختیارکرنا سب حرام ہے کہ اس میں عورتوں سے تشبیہ ہے،اس پر لعنت کی گئی بلکہ ڈاڑھی مونچھ منڈانا حرام ہے کہ اس میں بھی عورتوں سے مشابہت اورعورتوں کے سے لمبے بال رکھنا،ان میں مانگ چوٹی کرنا حرام ہے کہ ان سب میں عورتوں سے مشابہت ہے،عورتوں کی طرح تالیاں بجانا،مٹکنا،کوے بلانا سب حرام ہے اسی وجہ سے۔

۲؎  یعنی عورتوں کامردوں کی سی شکل بنانا،ان کا لباس پہننا،ان کی طرح بے پردہ پھرنا حرام ہے لہذا عورتیں بادشاہ یا حاکم نہ بنیں کہ یہ کام مردوں کے ہیں۔

۳؎  یعنی مخنث کو اپنے گھروں میں نہ آنے دو تمہاری عورتیں اس سے پردہ کریں کہ یہ بڑے بدمعاش ہوتے ہیں،پردہ نشین عورتوں کا ذکر غیر مردوں سے کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ مخنث اور مردوں کی ہم شکل بننے والی عورتیں دونوں کو گھروں سے نکال دو اور اپنی عورتوں کو ان سے پردہ کراؤ کہ ایسی عورتیں آوارہ ہیں ان سے پردہ واجب۔(اشعہ)فقہاء فرماتے ہیں کہ آوارہ عورتوں سے شریف عورتوں کا اسی طرح پردہ کرنا فرض ہے جیسے مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے کہ آوارہ عورتیں مردوں سے زیادہ خطرناک ہیں،ایسی آوارہ عورتوں نے شریفوں کے بہت گھر اجاڑ دیئے۔
Flag Counter