۱؎ مشرکین سے مرادکفار ہیں خواہ بت پرست ہوں یا اہلِ کتاب۔مخالفت سے مراد شکل،لباس،وضع قطع سب میں مخالفت ہوسکتی ہے مگر یہاں شکل میں مخالفت مراد ہے جیساکہ اگلی تفسیر سے ظاہر ہے۔یہ امروجوب کے لیے ہے کہ مسلمان کو کفار کی سی شکل بنانا حرام ہے۔
۲؎ اوفروا بنا ہے وفر سے بمعنی بڑھانا زیادہ کرانا،لحی جمع ہے لحیۃ کی بمعنی ڈاڑھی،رخسار اور ٹھوڑی پر جو بال ہیں انہیں لحیہ یعنی ڈاڑھی کہا جاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ڈاڑھی کو ہاتھ نہ لگاؤ اسے بڑھنے دو اس کے بڑھنے کی حد دوسری حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ڈاڑھی کی لمبائی چوڑائی سے کچھ کترتے تھے،اسے حضرت عبداللہ ابن عمر کے فعل شریف نے واضح کیا آپ چار انگلی یعنی مٹھی بھر سے زیادہ کو کٹوا دیتے تھے،دیکھو بخاری کتاب الحج اور شامی وغیرہ۔اگر عورت کے ڈاڑھی نکل آوے تو اس کا اکھیڑ دینا ضروری ہے کہ وہ داڑھی نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ڈاڑھی مشت سے کم کرنا بھی منع ہے اور اس سے زیادہ کرنا بھی منع ہے اور ہر دو کے پیچھے نماز مکروہ۔(مرقات و شامی)
۳؎ احفاء اور اعفاء دونوں کے معنی ہیں بڑھانا۔کفار کی مخالفت کو حضور انور نے مقرر فرمادیا کہ ڈاڑھی بڑھا کر ان کی مخالفت کرو اگرکسی جگہ کے کفار ڈاڑھی رکھتے ہوں جیسے ہمارے ہاں کے سکھ تو انکی مخالفت میں داڑھی مونڈانا حرام ہے کہ مخالفت کو حضور نے مقرر فرمادیا،یہ بھی خیال رہے کہ ایک مشت ڈاڑھی قرآن مجید سے بھی ثابت ہے،حضرت ہارون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا"لَاتَاۡخُذْ بِلِحْیَتِیۡ" میری ڈاڑھی نہ پکڑو۔معلوم ہوا کہ آپ کی ڈاڑھی اتنی تھی کہ پکڑنے میں آجائے وہ مٹھی بھر ہی ہے۔انبیاء کرام کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ خشخشی یعنی بھری ڈاڑھی والے تھے بھری ڈاڑھی مشت سے کم نہیں ہوسکتی لہذا فرنچ یا خشخشی یا مشت سے کم داڑھی رکھنا حرام ہے کہ یہ منڈانے کے حکم میں ہے۔اس کی بحث شامی کتاب الصوم میں دیکھو۔