| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا یہ بات سنت سے ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتہ اتارے انہیں اپنی برابر رکھ لے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی مجلس میں نہ تو جوتے پہن کر بیٹھے کہ یہ بدتمیزی ہے اور نہ جوتے اپنے آگے رکھے کہ یہ قبلہ معظمہ کی بے ادبی ہے نہ اپنی داہنی طرف رکھے داہنا حصہ عظمت والا ہے نہ پیچھے کہ اس میں جوتہ چوری ہوجانے کا خطرہ ہے لہذا پنی بائیں طرف رکھے۔(مرقات و لمعات)اب تو فیش پرست مسلمان مع جوتہ فرش پر بیٹھ کر روٹی کھاتے ہیں۔