۱؎ آپ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے ہیں،تابعی ہیں،حجۃ الوداع میں مقام ذوالحلیفہ پیدا ہوئے،بڑے فقیہ عالم اور بڑے قاری تھے۔(مرقات،اشعہ)
۲؎ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کے معنی وہ ہی ہیں جو پہلے عرض کیے گئے کہ ضرورۃً گھر کے صحن میں ایک دو قدم اس طرح چلے مثلًا دونوں جوتے شریف دور دور پڑے تھے ایک پاؤں مبارک میں جوتہ پہن لیا پھر دو ایک قدم چل کر دوسرے جوتہ تک پہنچے اور وہ پہن لیا اور ممانعت کی احادیث میں باہر سڑک پر اس طرح چلنے کی ممانعت ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں یا وہ احادیث اس حدیث کی ناسخ ہیں یا یہ حدیث بیان جواز کے لیے ہے گزشتہ ممانعت کی حدیث بیان استحباب کے لیے۔
خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا بعض ا یسے کام کرنا جو امت کے لیے مکروہ یا ممنوع ہیں بیان جواز کے لیے ہوتا ہے یہ عمل آپ کے لیے ممنوع نہیں۔بلکہ آپ کو اس پر بھی ثواب ملے گا کیونکہ یہ عملی تبلیغ ہے جیسا کہ حضور انور کا کھڑے ہو کر پانی پینا بیان جواز کے لیے تھا ہمارے واسطے مکروہ ہے۔حضور نے یہ عمل تبلیغ مسئلہ کے لیے کیا(اشعۃ اللمعات)
۳؎ یعنی ترمذی نے حدیث مرفوع و موقوف دونوں کی روایت کی مگر حدیث موقوف کو اسنادًا صحیح تر کہا کہ یہ عمل حضرت عائشہ صدیقہ کا ہے۔