Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
23 - 975
حدیث نمبر 23
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ نہ دیکھا ۱؎ جب سے اللہ نے آپ کو مبعوث فرمایا ۲؎ حتی کہ اللہ نے آپ کو وفات دی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی نہ دیکھی جب سے اللہ نے آپ کو مبعوث فرمایا حتی کہ اللہ نے آپ کو وفات دی ۳؎ کہا گیا کہ آپ حضرات جَو کیسے کھاتے تھے فرمایا ہم انہیں پیس لیتے تھے اور اسے پھونکتے تھے جو اڑتا اڑ جاتا جو باقی بچتا ہم گوندھ لیتے پھر کھالیتے ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی میدہ کھانا تو بہت دور کبھی ملاحظہ بھی نہ فرمایا۔اللہ کی شان ہے کہ اب مدینہ منورہ میں میدہ کی روٹی عام ہے آٹے کی روٹی بہت کم ملتی ہے اور کہتے ہیں میدہ کی روٹی بہت قسم کی ہوتی ہے مغربی،شامی وغیرہ۔

۲؎ یعنی ظہور نبوت کے بعد میدہ کی روٹی ملاحظہ نہ فرمائی۔اس سے پہلے حضور انور نے شام کا سفر کیا ہے اور بحیرہ راہب کی دعوت میں میدہ کی روٹی ملاحظہ فرمائی ہے۔اس زمانہ میں شام و روم میں میدہ کی روٹی بہت مروج تھی۔بعد اعلان نبوت حضور حجاز میں رہے اور مال سے بے رغبتی بھی بہت رہی۔(مرقات)

۳؎ سبحان اللہ! یہ ہے حضور کی سادہ اور بے تکلف زندگی۔

۴؎ بعض روایات میں ہے کہ کسی صاحب نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے تمنا کی کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا کھاؤں،آپ فرمانے لگیں تم نہ کھا سکو گے یہ تو ان کی ہی شان تھی جو کھا گئے اور واقعہ ہے کہ ہم گندم کی روٹی بے چھنے آٹے کی نہیں کھاسکتے چہ جائیکہ جو کی روٹی وہ بھی بے چھنے آٹے کی۔شعر

کھانا جو دیکھو جو کی روٹی بے چھنا آٹا روٹی بھی موٹی 		وہ بھی شکم بھر روز نہ کھانا صلی اللہ علیہ وسلم

جس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن ناغہ اک دن کھانا 		جس دن کھانا شکر کا کرنا صلی اللہ علیہ وسلم

قبضہ میں جس کے ساری خدائی اس کا بچھونا ایک چٹائی 	نظروں میں کتنی ہیچ ہے دنیا صلی اللہ علیہ وسلم
Flag Counter