| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ تو میں ارغوانی گھوڑے پر سوار ہوں گا ۱؎ نہ کسومی رنگ کے کپڑے پہنوں گا اور نہ ایسی قمیض پہنوں گا جو ریشمی حاشیہ والی ہو۲؎ اور فرمایا کہ خبردار رہو کہ مردوں کی خوشبو وہ خوشبو ہے جس میں رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو خوشبو نہ ہو۳؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ ارجوان معرب ہے ارغوان سے۔ارغوان ایک سرخ رنگ کا پھول ہے،اب ہر سرخ رنگ کو ارغوانی کہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔یہ کبھی ریشم کا ہوتا ہے کبھی سوتی،گھوڑے کی کاٹھی پر چھوٹا سا تکیہ رکھ کر سوار ہوتے ہیں۔وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی ہم کبھی سرخ رنگ کا تکیہ کاٹھی پر رکھ کر سواری نہ کریں گے۔معلوم ہوا کہ خالص سرخ کپڑے پر مرد کو بیٹھنا لیٹنا بھی بہتر نہیں۔خصوصًا جب کہ ریشم کا ہو اس لیے علماء کرام مرد کو ریشمی تو شک،گدیلا،بچھانا،ریشمی لحاف اوڑھنا ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ۲؎ کفف بنا ہے کفۃ سے بمعنی حصہ اور کنارہ یعنی جس سوتی قمیض کا گریبان دامن کلی وغیرہ ریشم کی ہو وہ ہم نہ پہنیں گے مگر یہ ممانعت جب ہے جب کہ ان کی چوڑائی چار انگل سے زیادہ ہولہذا یہ حدیث اس حدیث اسماء کے خلاف نہیں کہ انہوں نے ریشمی دامن والی قمیض دکھا کر فرمایا کہ یہ ہے حضور کا جبہ شریف کہ وہاں چار انگل سے کم ریشمی تھا۔ ۳؎ یعنی مسلمان مردوں کو ایسی خوشبو کی اجازت ہے جس کا رنگ کپڑے پر ظاہر نہ ہو مہک ہو جیسے عطر لہذا زعفرانی رنگ کے کپڑے مرد کو منع ہیں کہ اس میں مہک کے ساتھ رنگ بھی ہوتا ہے اور عورتوں کو ایسے کپڑے کی اجازت ہے کہ اس میں رنگت ہو مگر مہک نہ ہو۔عورتوں کو مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے،اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند یا اولاد ماں باپ تک ہی پہنچے تو حرج نہیں۔بہرحال مرد کے لیے سفید کپڑے بہتر ہیں عورت لیے رنگین کپڑے بہتر۔