Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
17 - 975
حدیث نمبر 17
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور پیالے کو چاٹنے کا حکم دیا ۱؎ اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کس میں برکت ہے ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎  منکرین انگلیاں اور رکابی چاٹنے سے نفرت کرتے ہیں۔تعلیم تواضع کے لیے یہ حکم صادر ہوا۔عیسائی اور انکی دیکھا دیکھی بعض مغرب زدہ لوگ تو انگلیوں سے کھانا بھی ناپسند کرتے ہیں وہ چھری کانٹے اور چمچہ وغیرہ سے ہی کھاتے ہیں،عیسائی تو اس عمل پر مجبور ہیں کیونکہ وہ ناخن کٹواتے نہیں اور ہاتھ دھوتے نہیں،پانی سے استنجاء کرتے نہیں کاغذ سے ہی پونچھتے ہیں،ان وجوہ سے ان کے ناخن زہریلے بھی ہوتے ہیں اور ان میں میل بھی بھرا رہتا ہے وہ انگلیوں سے کیسے کھائیں ان کے ناخنوں میں تو نجاست گندگی میل سب کچھ بھرا ہے۔مسلمان یہ عمل کیوں کریں وہ ناخن کٹواتے ہیں،ہر وقت وضو وغیرہ میں ہاتھ دھوتے ہیں،استنجاء ڈھیلے پھر پانی سے کرتے ہیں،لمبے ناخن ہوتے ہی نہیں اور پورے زہریلے نہیں،بڑے بڑے ناخنوں کا اندر کا میل نجاست زہریلے ہیں۔ہمارے اسلاف ہمیشہ انگلیوں سے کھاتے رہے نہ مرے نہ بیمار پڑے۔ہم سے زیاہ قوی و توانا تھے اور زیادہ عمر پاتے تھے۔اولًا آنکھیں کھانا ٹیسٹ کرتی ہیں کہ اس میں کوڑا گجرا تو نہیں ہے،پھر انگلیاں اسکی سردی گرمی کا پتہ لگاتی ہیں،پھر ناک اس کی خوشبو بدبو محسوس کرتی ہے،پھر زبان اس کا ذائقہ تازہ باسی ہونا،اچھا برا،گلا سڑا ہونا محسوس کرتی ہے،پھر دانت اس کا صاف یا کرکرا ہونے کا پتہ لگاتے ہیں،اتنی جگہ کھانا ٹیسٹ ہوکر گلے سے اترتا ہے،چھری کانٹے چمچے سے کھانے سے دوسری ٹیسٹ ختم ہوجاتی ہے لہذا ضرر کا اندیشہ ہے اس لیے حتی الامکان انگلیوں سے ہی کھانا چاہیے۔

۲؎ لہذا ہوسکتا ہے کہ اس کھانے میں برکت ہو جو انگلیوں یا پیالے میں لگا رہ گیا ہے،اگر انگلیاں ویسے ہی دھو دی گئیں تو ہم برکت سے محروم رہ گئے۔
Flag Counter