۱؎ بلا مجبوری بائیں ہاتھ سے کھانا پینا مکروہ تنزیہی ہے،بعض علماء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے کہ اس سے سخت ممانعت ہے۔
۲؎ ایک پاؤں میں جوتا ہو ایک پاؤں ننگا اس طرح چلنا مکروہ تنزیہی ہے،عذر سے ہو تو ممنوع نہیں ایسے چلنا پھرنا وقار کے بھی خلاف ہے اور اس طرح چلنے میں کچھ دشواری بھی ہوتی ہے کہ جوتا والا پاؤں اونچا ہوتا ہے ننگا پاؤں نیچا،بہرحال اس ممانعت میں بڑی حکمتیں ہیں۔
۳؎ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک چادر جسم پر اس طرح لپیٹ لے کہ جسم سارا بندھ جائے ایک ہاتھ بھی کھلا ہوا نہ رہے کہ یہ مغلول کی طرح ہوجاتا ہے یہ بھی مکروہ تنزیہی ہے۔
۴؎ احتباء کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تہبند صرف چادر اوڑھے ہو اور اوکڑوں بیٹھے تکیہ لگا کر اس طرح کہ شرمگاہ کھل جائے کہ اس میں بے پردگی ہے اس لیے کاشفا عن فرجہ کی قید لگائی گئی،اگر ستر نہ کھلے تو حرج نہیں۔