۱؎ اس طرح کہ گھر مع گھر والوں کے جل گیا یا گھر جل کر ان لوگوں پر گر گیا۔غرضیکہ گھر والے بھی ہلاک ہوگئے خواہ جل کر یا دب کر۔
۲؎ کیونکہ آگ ہمارے بدن ہمارے مال کی ہلاکت کا ذریعہ ہے،اگر احتیاط سے برتی جائے تو مفید ہے ورنہ ہلاکت۔اسے دشمن فرمانا اس معنی سے ہے یعنی بے احتیاطی سے برتی جائے تو دشمن ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آگ تو بڑی مفید چیز ہے۔حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے حد سے بڑھ کر مضر۔ہم بھی حد میں رہیں تو اچھے ورنہ حد سے بڑھ جائیں تو خود اپنے دشمن ہیں۔اللہ تعالیٰ حد میں رکھے۔
۳؎ یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا استحبابی ہے۔