Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
141 - 975
باب تغطیۃ الاوانی وغیرھا

برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  اس باب میں رات کو برتن ڈھکنے دروازہ بند کرنے،چراغ اور آگ بجھانے سب کا ہی ذکر ہوگا جیساکہ آئندہ پتہ لگے گا۔برتن سے مراد بھرے ہوئے برتن ہیں خواہ پانی سے یا دودھ یا سالن سے،خالی برتن ڈھکنے کا حکم نہیں جیساکہ اس کی وجہ بیان فرمانے سے معلوم ہورہا ہے۔
حدیث نمبر 141
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب رات کا شروع حصہ ہوجائے ۱؎ یا تم شام پاؤ تو اپنے بچوں کو روک لو ۲؎ کیونکہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جاوے تو بچوں کو چھوڑ دو ۳؎  اور دروازے بندکردو اور اللہ کا نام لو۴؎ کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا ۵؎  اور اپنے مشکیزوں کو بندھن دے دو اللہ کا نام لو ۶؎ اور اپنے برتنوں کو ڈھک دو اور اللہ کا نام لو اگرچہ اس پر کوئی چیز کھڑی کردو ۷؎  اور اپنے چراغ کو بجھا دو ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ جنح ج کے فتحہ ن کے جزم سے بمعنی حصہ اور شروع اور تاریکی۔(مرقات)یہاں سارے معنی درست ہیں رات کا شروع حصہ یا رات کی اندھیری۔راوی کو شک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جنح اللیل فرمایا یا فرمایا امسیتم۔مقصد قریبًا ایک ہی ہے۔

۲؎ یعنی اس وقت بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دو۔شیطان سے مراد موذی جنات اور موذی انسان دونوں ہیں۔(اشعہ)شام کے وقت ہی بچوں کو اغواء کرنے والے زیادہ پھرتے ہیں۔ شیطان سے مراد موذی خبیث جن ہیں ورنہ ایک شیطان تو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے جسے قرین کہتے ہیں لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں جن میں قرین کے ہر وقت ساتھ رہنے کا ذکر ہے ۔

۳؎  کیونکہ اب ان شیاطین کا زور گھٹ جاتا ہے وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں اب اگر بچے باہر نکلیں تو حرج نہیں۔ معلوم ہوا جنات و شیاطین کا اثر بچوں پر زیادہ ہوتا ہے اس لیے بچوں کو نکلنے سے روکا گیا ہے۔

۴؎  یعنی جب رات کو سونے لگو تو دروازے بندکرکے سوؤ اور بندکرتے وقت بسم اللہ پڑھ لیاکرو،اس کی حکمت ابھی آگے بیان ہورہی ہے۔

۵؎  بند دروازے سے مراد وہ ہے جو بسم اللہ سے بند کیا گیا ہو بغیر ذکر اللہ بند کیے ہوئے کے اندر شیطان آسکتا ہے،ان کی روک کے لیے دروازہ بند ہونا اور بسم اللہ پر بند ہونا ضروری ہے بسم اللہ باطنی قفل۔

۶؎  یعنی پانی کے بھرے مشکیزے کا منہ ڈوری سے باندھ دو یوں ہی کھلا نہ چھوڑو۔

۷؎  یہ مجبوری کی حالت میں ہے جب کہ کوئی چیز گھڑا وغیرہ ڈھکنے کے لیے نہ ملے۔اس لکڑی اور بسم اللہ کی برکت سے برتن شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا۔

۸؎  چراغ سے مراد بتی والا چراغ ہے جس کی بتی چوہا وغیرہ کھینچ سکے،لالٹین یا بجلی اس حکم سے خارج ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔بند گھر میں جلتی لالٹین چھوڑنا بھی خطرناک ہے اس سے گیس پھیل جانے کا خطرہ ہوتاہے۔
Flag Counter