Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
139 - 975
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 139
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎  انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اس کا نام کچھ دوسرا رکھ لیں گے ۲؎(ابوداؤد ، ابن ماجہ)۳؎
شرح
۱؎  آپ کے حالات پہلےگزرچکے کہ آپ کا نام کعب ابن عاصم ہے،کنیت ابو مالک یا ابو عامر ہے،ابو مالک زیادہ مشہور ہے،آپ صحابی ہیں،خلافت فاروقی میں وفات پائی۔

۲؎  یہ غیبی خبر ہے جو ہوبہو درست ہوئی یعنی آخر ی زمانہ میں لوگ شراب کے نام بدل دیں گے اور اسے حلال سمجھ کر پئیں گے حالانکہ وہ نشہ والی ہوگی مثلًا انگور کا پانی یا کھجور کا عرق کہیں گے یا اسے وسکی کہہ کر پئیں گے۔معلوم ہوا کہ نام کا اعتبار نہیں نشہ کا اعتبار ہے۔آج بعض لوگ شراب کو برانڈی یا وسکی کہہ کر پیتے ہیں حالانکہ حرام ہوتی ہے۔شراب کا نام قہوہ بھی ہے مگر مروجہ قہوہ یعنی بے دودھ کی چائے بالکل حلال ہے کہ اس میں نشہ نہیں لہذا حلال ہے،غرضیکہ نام کا اعتبار نہیں کام کا اعتبار ہے۔(مرقات)

۳؎  یہ حدیث احمد،ابن حبان،طبرانی،بیہقی نے بھی روایت فرمائی ان کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ ان میں باجے رنڈیوں کے گانے بہت بڑ ھ جائیں گے،اللہ انہیں زمین میں دھنسادے گا اورانکی صورتیں بندروں  سؤروں میں تبدیل فرمادے گا یہ آخر زمانہ میں ہوگا۔(مرقات)
Flag Counter