۱؎ اہلِ عرب شراب کے بڑے عادی تھے،جب اسلام میں شراب حرام کی گئی تو شراب بنانے رکھنے پینے کے برتنوں کا استعمال بھی حرام کردیا گیا تاکہ یہ برتن دیکھ کر لوگوں کو شراب یاد نہ آوے اور لوگ پھر سے شراب نہ پینے لگیں،بعد میں برتنوں کی ممانعت کی حدیث منسوخ ہوگئی اسی کی ناسخ حدیث آگے آرہی ہے،یہ شراب کے چار برتنوں کا ذکر ہے ۔پختہ کدو جو لمبا ہوتا ہے اسے کھکھل کرلیا جاتاتھا،اس سے جگ کی جگہ کام لیتے تھے کہ اسے دباء کہتے تھے۔چھوٹا گھڑا جس میں تھوڑی شراب رکھتے تھے اسے حنتم کہتے تھے،اس پر اکثر سبز رنگ کردیتے تھے۔شراب پینے کا پیالہ جس میں تارکول لگا ہوتا اسے مزفت کہتے تھے یعنی زفت لگا ہوا روغنی پیالہ۔موٹے درخت کی جڑکھکھل کرکے زمین میں گاڑ دیتے اس میں زیادہ شراب رکھتے تھے اسے نفیر کہتے۔غرضیکہ شراب رکھنے کے دو برتن تھے اور پلانے کے دو برتن۔ان چاروں برتنوں کا استعمال بھی حرام کردیا گیا اور فرمایا گیا کہ ان برتنوں میں دودھ،پانی،نبیذ اور کوئی شربت بھی نہ پیو نہ رکھو تاکہ شراب کا تصور نہ آنے پائے۔
۲؎ یعنی چمڑے کے مشکیزے میں نبیذ بناؤ کیونکہ اولًا چمڑے کے مشکیزے میں نبیذ میں جلد نشہ پیدا نہیں ہوتا کہ چمڑا ٹھنڈا ہوتا ہے اگر نبیذ میں جوش آجائے اور نشہ پیدا ہوجائے تو چمڑہ کا مشکیزہ پھٹ جاتا ہے۔ان مذکورہ برتنوں میں جلد نشہ پیدا ہوجاتا ہے اور پھر خبر نہیں ہوتی کہ نشہ ہوا ہے یا نہیں،ممکن ہے کہ نشہ پیدا ہوچکا ہو اور تم بے خبری میں پی لو۔