Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
135 - 975
حدیث نمبر 135
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے ۱؎ جس کا دہانہ باندھ دیا تھا اور اس کا دہانہ تھا۲؎ صبح نبیذ بناتے تو وہ شام کو پیتے اور شام کو نبیذ بناتے وہ حضور صبح کو پیتے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ نبیذ بنا ہے نبذ سے بمعنی پھینکنا،ڈالنا،پھر پھینکی ہوئی چیز کو نبیذ کہنے لگے،اس کے بعد اس پھینکنے کے نتیجہ کو نبیذ کہنے لگے،یہاں آخری تیسرے معنی مراد ہیں یعنی ہم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے کھجوروں یا کشمکش کا نبیذ تیارکرتے تھے کہ شام کو کھجوریں بھگو دیتے تھے۔

۲؎  یعنی اس مشکیزہ کے دو منہ تھے:ایک اوپر والا جس سے پانی وغیرہ بھرا جاتا تھا،دوسرا نیچے والا جس سے پانی وغیرہ نکالا جاتا تھا۔عزلاء ہر منہ کو کہا جاتا ہے۔یہاں نیچے والا منہ مراد ہے کیونکہ اوپر والے منہ کا ذکر تو الگ ہوچکا۔

۳؎  نماز فجر اور طلوع آفتاب کے درمیانی وقت کو غدوہ(غبن کے پیش سے )کہا جاتا ہے اور سورج ڈھلے سے مغرب تک کے وقت کو عشاء(عین کے کسرہ سے)کہا جاتا ہے یعنی صبح کے بھگوئے ہوئے چھواروں کا پانی حضور انور دوپہر کے بعد سے شام تک پی لیتے تھے اور شام کے بھگوئے ہوئے چھوارے صبح کو پی لیتے تھے زیادہ دیر نہ لگائی جاتی تھی۔
حدیث نمبر 135
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے شروع رات میں نبیذ بنایا جاتا اسے حضور پیتے جب صبح ہوتی اسی دن اور رات جو آتی اور کل اور دوسری رات اور کل عصر تک ۱؎  پھر اگرکچھ بچ رہتا اسے خادم کو پلا دیتے ۲؎  یا حکم دیتے تو گرا دیا جاتا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ایک دن کا بنایا ہوا نبیذ حضور دو روز تک پیتے رہتے تھے کہ اس قدر ٹھہرنے سے اس میں نشہ پیدا ہونے کا احتمال نہ تھا۔

۲؎  اس لیے کہ اس کے بعد تل چھٹ رہ جاتا تھا صاف شربت نہ رہتا تھا نشہ ہرگز نہیں پیدا ہوتا تھا،اگر نشہ پیدا ہوتا تو خادم کو ہرگز نہ پلاتے کہ نشہ پلانا بھی حرام ہے۔(مرقات،اشعہ)

۳؎  گرادینا اس صورت میں ہوتا تھا جب کہ اس میں نشہ پیدا ہوجاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ اعلٰی کھانا اگر آقا کھائے اور نیچے کا بچا ہوا کھانا خادم کو کھلائے تو جائز ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آتا ہے کہ خادم کو ساتھ کھلاؤ یہ بیان استحباب کے لیے ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ نشہ آور یا سڑی بسی چیز کسی کو نہ کھلائی جائے بلکہ پھینک دی جائے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی روایت کہ صبح کا نبیذ شام تک ختم فرمادیتے تھے الخ،گرمیوں کے موسم کے متعلق ہے اور حضرت ابن عباس کی یہ حدیث دو دن تک پینے کی سردی کے موسم کے متعلق ہے۔گرمیوں میں نبیذ میں جلد جوش آجاتا ہے اور جلد نشہ آور ہوجاتا ہے سردی میں نہیں۔
Flag Counter