| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ برتن میں سانس لی جائے یا اس میں پھونکا جائے ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ برتن میں سانس لینا جانوروں کا کام ہے،نیز سانس کبھی زہریلی ہوتی ہے اس لیے برتن سے الگ منہ کرکے سانس لو۔گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو قدرے ٹھنڈی ہوجائے پھر پیو،اگر پانی میں تنکا وغیرہ ہو تو کچھ گرادو پھونک سے الگ نہ کرو۔بعض لوگوں کو گندہ دہنی کی بیماری ہوتی ہے انکی پھونک سے پانی میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اس لیے ہرشخص ان دونوں سے پرہیز کرے برتن میں سانس لینے اور اس میں پھونک مارنے سے،حضور کے احکام میں صدہا حکمتیں ہیں۔