| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے گھریلو بکری دوہی گئی ۱؎ اور اس کا دودھ اس کنویں کے پانی سے ملایا گیا جو حضرت انس کے گھر میں ہے ۲؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پیالہ پیش کیا گیا آپ نے پیا اور آپ کے بائیں ابوبکر صدیق تھے آپ کے دائیں ایک بدوی۳؎ حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ ابوبکر کو دیجئے۴؎ حضور نے اس بدوی کو دیا جو آپ کے داہنے تھا پھر فرمایا داہنا پھر داہنا اور ایک روایت میں ہے کہ داہنے پھر داہنے خبردار داہنے کا خیال رکھو ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ داجن کے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کردیئے گئے جو بکری گھر پر چارہ سے پالی جائے وہ داجن ہے جو باہر چر کر آوے وہ شاۃ تو ہے مگر داجن نہیں۔ ۲؎ یعنی کچی لسی تیار کی گئی،اس کنویں کا نام اس لیے بتایا گیا تاکہ آئندہ مسلمان اس کنوئیں کا پانی برکت کے لیے پئیں،زائرین مدینہ تمام ان کنوؤں کا پانی پیتے ہیں جن سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے پانی پیا یا غسل کیا ہے بیر عبن،بیرشمس،بیربضاعہ وغیرہ۔ ۳؎ ان خوش نصیب بدوی کا نام معلوم نہ ہوسکا بہرحال مدینہ کے چاند بیچ میں جلوہ گر تھے اور یہ تارے داہنے بائیں تھےرضی اللہ عنہم اجمعین۔ ۴؎ حضرت عمر اس وقت حضور انور کے سامنے تھے آپ نے بطور مشورہ یہ عرض کیا کیونکہ جناب صدیق افضل،اعلم،اکمل،اقدم اعلیٰ تھے۔آپ کا منشاءتھا کہ سید المرسلین کی پس خوردہ لسی سید المسلمین نوش کریں۔ ۵؎ یعنی کھانے پینے کی ترتیب میں قرب مرتبہ کا اعتبار نہیں قرب مکان کا لحاظ ہے اور داہنا شخص بائیں سے قریب تر ہوتا ہے۔نماز کی امامت میں اعلیٰ و افضل و اعلم کو مقدم رکھا جاتا ہے،یہ ترتیب عقل کے بھی مطابق اور قرین قیاس ہے۔دائرہ کی گردش داہنی طرف سے ہوتی ہے طواف کعبہ میں سنگِ اسود چومنے کے بعد داہنے چلتے ہیں۔