Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
120 - 975
حدیث نمبر 120
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ پہنو باریک ریشم نہ موٹا ریشم ۱؎  اور نہ پیو سونے چاندی کے برتن میں اور نہ کھاؤ ان کے پیالوں میں کہ یہ کفار کے لیے ہیں دنیا میں اور وہ تمہارے لیے ہیں آخرت میں ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ جس کپڑے کا تانا بانا یا صرف بانا ریشم کا ہو وہ مرد کو پہننا حرام ہے عورت کو حلال اور جس کا تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اون کا اس کا پہننا مردکو بھی حلال ہے۔ریشم سے مراد کیڑے کا ریشم ہے،دریائی ریشم یا سن کا ریشم سب کو حلال ہے کہ وہ حریرودیباج نہیں۔

۲؎  یعنی کفار اگر سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں تم انہیں نہ روکو نہ ان سے لڑو مگر ان کی دیکھا دیکھی تم نہ پہنو تمہارے واسطے سونا چاندی جنت میں تیار ہے ان شاءاللہ خوب استعمال کرنا،اس ممانعت میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔اگر مسلمان مردوں نے سونے چاندی کے زیور پہننا شروع کردیئے تو تلوار و بندوق سے جہاد کون کرے گا،مسلمان کا زیور علم اور ہتھیار ہیں۔
Flag Counter