| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں دو غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آئے حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے ۱؎ تو حضور کی خدمت میں ان کے مولاؤں نے لکھا بولے اے محمد خدا کی قسم یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین سے محبت کی وجہ سے نہیں گئے وہ تو صرف غلامیت سے بھاگنے کے لیے نکلے ہیں ۲؎ تو کچھ لوگ بولے یارسول اللہ وہ سچے ہیں حضور انہیں ان کی طرف لوٹا دیں۳؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ناراض ہوئے۴؎ اور فرمایا کہ اے گروہ قریش تم لوگ باز نہ آؤ گے حتی کہ اﷲ تعالٰی تم پر اسے بھیجے جو اس پر تمہاری گردنیں مار دے ۵؎ اور انہیں واپس فرمانے سے انکارکردیا اور فرمایا کہ یہ اﷲ کے آزادکردہ ہیں ۶؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی جس دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم حدیبیہ کے میدان میں قیام پذیر ہوچکے تب مشرکین مکہ کے غلاموں میں سے دو غلام مسلمان ہوکر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچ گئے،صلح نامہ ان کے آچکنے کے بعد لکھا گیا۔اس صلح نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہوکر حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوجائے اسے حضور واپس فرمادیں مگر چونکہ یہ دونوں اس تحریر سے پہلے ہی آچکے تھے اس لیے انہیں واپس نہیں کیا گیا اس لیے راوی نے قبل الصلح کی تصریح فرمادی۔ ۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہوئے ہیں صرف غلامیت سے بھاگ نکلنے کے لیے اسلام ظاہر کرکے آپ کے پاس پہنچ گئے ہیں دل میں کافر ہی ہیں لہذا آپ انہیں واپس فرمادیں۔خیال رہے کہ بعض شارحین نے یہاں غلاموں سے مراد آزادکردہ غلام لیے ہیں وہ یہاں رق سے مراد اثر رق لیتے ہیں۔مرقات میں یہ بھی احتمال لیا ہے مگر پہلی توجیہ بہت قوی ہے کہ یہ دونوں غلام ہی تھے۔ ۳؎ یعنی بعض صحابہ نے ظاہر حال کو دیکھ کر کفار کی اس تحریر کی تائید کی کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ آزاد ہونے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ۴؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان تائید کرنے والے صحابہ پر ناراض ہوئے کیونکہ ان حضرات نے محض اپنے خیال سے حکم شرعی کے خلاف رائے دی،نیز مسلمان ہوجانے والوں پر بلا دلیل شبہ کیا،ان کے اخلاص کا انکار فرمایا، نیز بلا دلیل مشرکوں کی تائید کی ان تین وجہوں سے اظہا ر ناراضگی فرمایا۔ ۵؎ گروہ قریش سےمراد وہ کفار ہیں جنہوں نے یہ تحریر بھیجی تھی ان ہی پر اظہار غضب ہے۔ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے یہ فرمان عالی ان پیغامبروں کے سامنے فرمادیا تاکہ وہ لوگ ان تک پہنچادیں تحریر فرما کر نہ بھیجا یعنی تم خود تو کافر ہو مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش کرتے ہو تمہاری اس سرکشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم پر مسلمانوں کا راج ہوگا،پھر تم کو مسلمان ہونا پڑے گا۔خیال رہے کہ کفار عرب جزیہ نہیں دے سکتے ان کے لیے صرف تلوار یا اسلام ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ"اس آیت سے کفار عرب یا تو مستثنٰی ہیں یا چونکہ کفار عرب کو وطن چھوڑ دینے کی اجازت ہے اس لیے وہ بھی اس آیت میں داخل ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ھٰذا سے اشارہ اس ظلم و تشدد یا مرتد کرنے کی کوشش کی طرف ہے یعنی ایسا حاکم اسلامی تم پر مقرر ہوگا جو تم کو اس ظلم کی سزا دے گا اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے۔ ۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر غلام مسلمان ہوکر دارالحرب سے دارالاسلام میں آجائے تو وہ آزاد ہوگا،یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کلمہ پڑھ لینے والے پر بلا دلیل شرعی منافقت کا شبہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہاں علامات نفاق یا علامات کفر موجود ہوں تو انہیں کافر یا منافق کہا جاسکتا ہے،رب تعالٰی نے مدینہ کے منافقوں کو جھوٹا اور منافق فرمایا کہ ارشاد فرمایا:"وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ"حضرات صحابہ نے منکرین زکوۃ پر جہاد کیا اور منکرین تقدیر کو کافر کہا اگرچہ وہ کلمہ گو تھے۔