روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد ابن ولید کو بنی جزیمہ کی طرف بھیجا ۱؎ تو خالد نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے یہ جانا کہ کہہ دیتے ہم اسلام لائے تو وہ کہنے لگے ہم دین سے نکل گئے ۲؎ نکل گئے تو حضرت خالد انہیں قتل کرنے اور قید کرنے لگے۳؎ اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا قیدی دیاحتی کہ ایک دن وہ ہوا کہ حضرت خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کردے۴؎ تو میں بولا اﷲ کی قسم میں تو اپنے قیدی کو قتل نہ کروں گا ۵؎ اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے حتی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ ہم نے حضور سے ذکر کیا تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا الٰہی میں اس سے تیری طرف بیزاری ظاہرکرتا ہوں ہوں جو خالد نے کہا دوبارہ فرمایا ۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ تاکہ انہیں اسلام کی دعوت دیں اگر وہ قبول نہ کریں تو ان پر جہاد کریں۔جزیمہ جیم کے فتحہ ذال کے کسرہ سے ایک مشہور قبیلہ تھا۔ ۲؎ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے پرانے دین سے نکل گئے اسلام میں داخل ہوگئے،حضرت خالد یہ سمجھے کہ کہتے ہیں ہم دین اسلام سے نکلے ہی رہیں گے مسلمان نہ ہوں گے۔عربی میں صابی بے دین کو کہتے ہیں جو دین سے نکل جاوے غرضیکہ آپ ان کا مقصد نہ سمجھ سکے۔ ۳؎ یعنی بعض کو انہوں نے فی الحال قتل کردیا اور بعض کو قید کرلیا۔آئندہ قتل کردینے یا غلام بنالینے کی نیت سے حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ فورًا قتل کردے یا کچھ بعد میں۔ ۴؎ یعنی وہ قیدی غازیوں میں تقسیم کردیئے گئے تاکہ انہیں حکم قتل تک محفوظ رکھیں پھر ایک دن حکم دیا کہ ہر شخص اپنے پاس محفوظ غلام کو خود قتل کردے۔ ۵؎ کیونکہ مجھے شک ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہوچکے ہیں ان کا کافر رہنا یقینی نہیں۔یہ ہے مجہتدین کا اختلاف کہ ایک لفظ کو حضرت خالد نے کفر کی دلیل بنایا اور حضرت عبداﷲ ابن عمر نے اسلام کی دلیل قرار دیا۔یہ دونوں حضرات اپنے خیال میں سچے ہیں مگر حضرت ابن عمر حق پر ہیں حضرت خالد سے خطا ہوئی۔ ۶؎ یعنی حضرت خالد نے ان کے متعلق غلط رائے قائم کی اور انہیں قتل یا قید کیا یہ غلط کیا خدایا میں خالد کے اس فعل سے راضی نہیں مگر حضرت خالد کو نہ تو دیت کا حکم دیا نہ توبہ کا۔معلوم ہوا کہ اگرچہ مجتہد سے بڑی بھاری غلطی ہوجائے حتی کہ قتل بھی واقع ہوجائے تب بھی اس کی گرفت نہیں لہذا حضرت علی اور حضرت معاویہ و عائشہ صدیقہ میں سے کسی پر گناہ نہیں کہ وہاں کشت و خون ہوا مگر نفسانیت سے نہیں بلکہ للہیت سے،ان میں کوئی کسی کا ذاتی دشمن نہ تھا،اختلاف رائے سے یہ سب کچھ ہوا،ان کے متعلق رب فرماتاہے:"رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔