۱؎ یہاں بڈھوں سے مراد وہ بڈھے ہیں جو یا تو مسلمانوں کے مقابل جنگ کررہے ہوں یا لڑنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہوں یا انہیں لڑاتے ہوں بہرحال جنگ میں حصہ لیتے ہوں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کافر بوڑھوں کے قتل سے ممانعت ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں شیوخ سے مراد جنگی تدبیر رکھنے والے جوان ہیں یعنی جو عمر میں جوان ہوں تدبیر و عقل تجربہ میں بوڑھے کیونکہ اس کے مقابل بچوں کا ذکر آرہا ہے۔
۲؎ یہ تفسیر یا صحابی سمرہ ابن جندب کی ہے یا کسی راوی حدیث کی یا خود صاحب مصابیح کی۔شرخ شین کے پیش ر کے فتح سے جمع ہے شارخ کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی۔شرخ کے معنی ہیں لڑکپن یا شروع جوانی۔چھوڑنے سے مراد ہے انہیں قتل نہ کرنا بلکہ قیدکرلینا تاکہ انہیں غلام بنالیا جائے یا کسی وجہ سے انہیں آزاد کردیا جائے۔غرضیکہ اس چھوڑنے میں بہت مصلحت ہے۔