Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
827 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر827
روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱؎  تو آپ اگر شروع دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چل پڑتیں اور نصرت و فتح اترتی ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ بہت سے جہادوں میں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎ اس طرح کہ مسلمان بعد نماز ظہر غازیوں کے لیے دعائیں مسجدوں میں کرتے ہوتے اور ادھر غازی لوگ میدان میں جہادکرتے گویا جہاد مسلمانوں کی دعاؤں کے سایہ میں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر828
روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ نعمان ابن مقرن سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کیا تو فجر طلوع ہوتی تو آپ رک جاتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ۱؎ پھر جب سورج طلوع ہوتا تو جنگ کرتے پھر جب نصف دن ہوجاتا تو رک جاتے۲؎  حتی کہ سورج ڈھل جاتا پھر جب ڈھل جاتا تو جہادکرتے عصر تک پھرٹھہر جاتے حتی کہ عصر پڑھ لیتے پھر جہاد کرتے،قتادہ کہتے ہیں کہ کہا جاتاہے۳؎  کہ اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتیں ہیں اور مسلمان اپنی نمازوں میں اپنے لشکروں کے لیے دعائیں کرتے ۴؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آفتاب نکلتے تک کا انتظاراس لیے ہوتا تھاکہ  نماز فجر سے اطمینان کے ساتھ فراغت ہوجائے اور بعد نماز ورد وظیفے اور پھر نماز چاشت سے فارغ ہوجاتے تھے،ہمیشہ ہی نماز اور ذکراللہ کی پابندی چاہیے مگر جہاد میں بہت زیادہ چاہیے۔ثابت قدمی اور ذکر اللہ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جوکفار کے پاس نہیں،رب فرماتاہے:"اِذَا لَقِیۡتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوۡا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا"۔

۲؎  یہاں نصف دن سے مراد شرعی دن کا آدھا ہے جسے ضحوہ کبریٰ کہتے ہیں۔اس وقت سے سورج ڈھلنے تک کافی وقفہ مل جاتا ہے جس میں غازی آرام کرکے تازہ دم ہوجاتے ہیں کیونکہ نجومی کہتے ہیں کہ دن کے آدھے اور سورج ڈھلنے میں وقفہ بہت کم ہوتا ہے۔

۳؎ یعنی عام صحابہ اور عام مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس وقت جنگ کرنے میں یہ حکمتیں ہیں اور یہ شہرت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی بنا پر ہے۔آزمائش ہے کہ جو بات مشہور ہو اس کی اصل ضرور ہوتی ہے۔

۴؎ بعد فجر بعد ظہر تو عمومًا دعائیں ہوتی ہیں مگر بعد عصر میں یہ خصوصیت ہے کہ بہت سے انبیاء کرام نے اس وقت جہاد میں فتح پائی ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک نبی جہاد فرمارہے تھے،شہر قریب فتح تھا کہ سورج ڈوبنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے سورج تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں،خدایا اسے روک دے،چنانچہ سورج روک دیا گیا جب انہوں نے شہر فتح فرمایا تب سورج ڈوبا۔(مرقات)

	روایت ہے حضرت عصام مزنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو فرمایا جب تم مسجد دیکھو یا مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرو ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ یعنی جب تم کسی بستی میں قولی یا فعلی علامت اسلام دیکھو تو اندھا دھند وہاں قتال نہ کرو بلکہ مسلمان و کافر کی چھانٹ سے کرو کہ کوشش کرو کہ صرف کفار تمہاری تلوار سے مارے جاویں مسلمان زد میں نہ آویں۔(مرقات)لہذا حدیث واضح ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر حربی کفار کے ملک میں کوئی مسجد ہو تو ان پر جہاد ہی نہ ہو۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ میں حملہ کیا وہاں قتال بھی ہوا حالانکہ وہاں تو کعبہ شریف موجود تھا لہذا احد سے مراد ہے کوئی مسلمان۔
Flag Counter