Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
820 - 1040
باب الکتاب الی الکفار و دعائھم الی الاسلام

کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم صلح حدیبیہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے شاہ روم قیصر اور شاہ فارس کسریٰ وغیرہم کو دعوت نامہ لکھنے کا ارادہ فرمایا کہ انہیں دعوت اسلام دیں تو واقف کار صحابہ کرام نے عرض کیا یہ بادشاہ بغیر مہر والے خط کو نہیں پڑھا کرتے تب حضور انور نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں نقش کروایا "محمد رسول الله"یوں کہ پہلے محمد پھر اس کے اوپر رسول پھر اس کے اوپر اﷲ اور ان سلاطین کو فرامین لکھے جیساکہ ابھی احادیث میں آرہا ہے۔مہر والی انگوٹھی بادشاہ،قاضی اور مفتی کے لیے سنت ہے۔(ازمرقات)
حدیث نمبر820
روایت ہے حضرت ابن عباس کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر کو فرمان لکھا اسے دعوت اسلام دیتے ہوئے ۱؎  اور دحیہ کلبی کو اپنا خط دے کر اس کی طرف بھیجا ۲؎ اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بصریٰ کے حاکم کو دے دیں۳؎ تاکہ وہ قیصر کو پہنچادیں۴؎  تو اس میں یہ تھا شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو مہربان رحم والا ہے ۵؎  یہ خط اﷲ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے سلطان روم ہرقل کے طرف ہے ۶؎  اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے ۷؎  اس کے بعد میں تم کو دعوت اسلام سے بلاتا ہوں ۸؎  اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اللہ تم کو ڈبل ثواب دے ۹؎ اور اگر تم نے منہ پھیرا تو تم پر تمام رعایا کا گناہ ہے۱۰؎ اور اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اﷲ کے سواءکسی کو نہ پوجیں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمارے بعض بعض کو اﷲ کے مقابل رب نہ بنالیں۱۱؎ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۱۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں فرمایا کہ یہ فرمان محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے اور فرمایا رعایا کا گناہ اور فرمایا اسلام کی دعوت ۱۳؎
شرح
۱؎ بادشاہ روم کا لقب اس زمانہ میں قیصر تھا اور بادشاہ فارس کا لقب کسریٰ اوربادشاہ حبشہ کا لقب نجاشی،شاہ ترک کا لقب خاقان ،شاہ قبط کا لقب فرعون، شاہ مصر کا لقب عزیز اور شاہ حمیر کا لقب تبع،شاہ ہند کا لقب سلطان ہوتا تھا۔(نووی،اشعہ،مرقات)حضور انور نے یہ فرمان نامے حضرت زید ابن ثابت سےلکھوائے تھے خود ان پر مہر کی تھی ان فرمانوں کے فوٹو چھپے ہوئے ہیں اور مع ترجمے کے شائع ہوئے ہیں،اس قیصر کا نام ہرقل تھا۔

۲؎ دحیہ دال کے کسرہ ح کے سکون اور ی کے فتحہ سے آپ دحیہ ابن خلیفہ ہیں،قبیلہ بنی تغلب سے ہیں،احد اور بعد کے غزوات میں شامل رہے،بہت خوبصورت تھے،اکثر جبرائیل امین آپ کی شکل میں آتے تھے،حضرت دحیہ آخر عمر میں حضرت امیر معاویہ کے پاس شام میں رہے یہ فرمان عالی        ۶ھ؁ میں روانہ ہوئے۔

۳؎  خیال رہے کہ  بصریٰ صوبہ خوران کا ایک شہر ہے دمشق اور بعلبک کے درمیان یہ صوبہ روم کے قبضہ میں تھا یہاں روم کا گورنر رہتا تھا اور بصرہ دوسرا شہر ہے جو عراق میں ہے جہاں سے بغداد شریف کو ریل جاتی ہے میں نے بصرہ و بغداد کی زیارات کی ہیں،بعض لوگ اسے بصرہ سمجھتے ہیں یہ غلط ہے۔

۴؎ جیسے آج کل سفیر یا وزیر خارجہ کے ذریعہ صدر مملکت سے بات ہوتی ہے ویسے ہی اس زمانہ میں گورنر بصریٰ کے ذریعہ قیصر روم کو پیغام دیئے جاتے تھے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعوت اسلام گورنر بصریٰ کے ذریعہ بھیجی۔معلوم ہوا کہ ہر ملک کے قوانین پرعمل کرنا درست ہے جب کہ وہ خلاف اسلام نہ ہوں۔

۵؎  معلوم ہوا کہ اپنے خط وغیرہ دنیاوی تحریروں کو بھی بسم اﷲ سے شروع کرنا سنت ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ بلقیس کو خط لکھا تھا تو اسے بھی بسم اﷲ سے شروع فرمایا تھا(قرآن کریم)آج کل بعض محتاط لوگ بجائے بسم اﷲ کے ۷۸۶ یعنی بسم اﷲ کے عدد لکھتے ہیں نیچے ۹۲ محمد کے نام کے عدد کیونکہ آج کل خطوط ڈاک سے جاتے ہیں جس سے بسم اﷲ وغیرہ کی بے ادبی ہوتی ہے ۔وہ فرمان عالی ہاتھوں ہاتھ گئے تھے ان کی یہ احتیاط بھی اچھی ہے غرضیکہ ادب اعلیٰ عبادت ہے جتنا ہوسکے اچھا ہے۔

۶؎  معلوم ہوا کہ خط میں کاتب اور مکتوب الیہ کا نام شروع میں لکھنا سنت ہے بعد میں مضمون ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مکتوب الیہ کے کچھ خصوصی القاب لکھنا بھی بہتر ہے خود اپنے خصوصی صفات بیان کرنا بھی اچھا ہے،حضور انور نے عبداﷲ و رسولہ میں اپنے کمال عبودیت اور جمال و رسالت دونوں بیان فرمائے۔ہرقل عیسائی تھا،اس فرمان میں اشارۃً ان کی غلطی کی طرف بھی متوجہ فرمادیا کہ تم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بجائے بندے کے خدا مان لیا۔

۷؎ معلوم ہوا کہ کفار کو السلام علیکم نہ کہا جائے کفاروبے دینوں کو یہ سلام کرے،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہ ہی سلام فرمایا تھا ہدیٰ سے مراد ہدایت اسلام ہے۔

۸؎ داعیہ مصدر ہے بمعنی دعوت(بلانا)جیسے عافیہ اور عافیت بعض نسخوں میں بدعایۃ الاسلام ہے اس کے معنی بھی یہ ہی ہیں جیسے رعایۃ۔

۹؎  یعنی اگر تو اسلام لے آیا تو دنیا میں برے عقیدے،برے اعمال اور جزیہ و قتل سے بچے گا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا اور تجھے اور نو مسلموں سے ثواب بھی دگنا ملے گا ایک ثواب عیسائی رہنے کا پھر مسلمان ہوجانے کا کیونکہ اسلام کی برکت سے پچھلے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں پچھلی نیکیاں قبول۔

۱۰؎  اریسین جمع ہے اریسی کی بمعنی کاشتکار،ماتحت،رعایا،خدام یعنی اگر تو کافر رہا تو تیری وجہ سے تیری رعایا اور خدام بھی کافر رہیں گے تو ان سب کے کفر کا وبال تجھ پر پڑے گا الناس علی دین ملوکہم،بعض نے فرمایا کہ اریسی عیسائیوں کا نام ہے کیونکہ یہ اریس کے ہیں اس لیے انہیں اردیسیہ بھی کہا جاتا ہے اریس کوئی بڑا پادری گزرا ہے۔(مرقات)یعنی تجھ پر تمام عیسائیوں کے عیسائی رہنے کا گناہ ہوگا۔

۱۱؎  یہ قرآن کریم کی آیت ہے،اس کی تفسیر ہماری تفسیری نعیمی میں ملاحظہ فرماؤ۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ کلمۃ سے مراد سارے ایمانی اسلامی عقیدے ہیں جن کو حضرات انبیاءکرام بھی جانتے مانتے تھے اور نو مسلم و پرانے مسلم یکساں ہیں اس کی تفسیر ان لانعبد الخ ہے۔رب بنانے سے مراد یا تو حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننا ہے یا پادریوں جوگیوں کو حرام اور حلال کا مالک جاننا ان سے اپنے گناہ معاف کرانا ہیں جو عیسائیوں کے ہاں ہوتا ہے اسلام میں نہ یہ عقیدے ہیں نہ یہ اعمال ہیں آیت کریمہ بہت جامع ہےیہاں اس کی تفسیر کا موقع نہیں۔

۱۲؎ یعنی اگر تم ایمان قبول نہ کرو تو بھی اس خط سے تم کو ہمارا مذہب معلوم ہوگیا کل قیامت میں تم کو ہمارے ایمان کی گواہی بارگاہ الٰہی میں دینا ہوگی۔خیال رہے کہ قیامت کے دن مؤمن کے ایمان کے گواہ کفاربھی ہوں گے اور درخت ذرے وغیرہ بھی جنہوں نے مؤمن کے ایمان کو اس کے اعمال کو دیکھا جہاں تک مؤذن کی آواز اذان پہنچتی ہے وہاں تک کہ ہر چیز اس کے ایمان کی گواہ ہے۔

۱۳؎  یریس اور دعایۃ دونوں لفظوں کی تحقیق ابھی کردی گئی ہے۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خط کو بسم اﷲ سے شرو ع کرنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفار کو سلام اس طرح کیا جائے"السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"۔ تیسرے یہ کہ جہاد سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دینا چاہیے یہ دعوت کبھی واجب ہے کبھی مستحب۔چوتھے یہ کہ ایک شخص کی خبرمعتبر ہے،اکیلے حضرت دحیہ کو خط دے کر بھیجا گیا ان کے ساتھ گواہ نہ گئے۔پانچویں یہ کہ کفار کے ملک میں ایک دو آیتوں والا کاغذ بھیجنا جائز ہے وہاں قرآن لے جانا ممنوع ہے جب کہ اس کی توہین کا اندیشہ ہو،دیکھو حضور نے اس خط شریف میں قرآنی آیت لکھ کر عیسائیوں کے ملک میں بھیجی۔چھٹے یہ کہ ایک دو آیتوں کو بے وضو اور کافر چھو سکتے ہیں۔دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فرمان عالی میں آیت قرآنیہ تحریر فرماکر گورنر بصریٰ کی معرفت ہرقل شام روم کو روانہ فرمایا حالانکہ عظیم بصری اور ہرقل دونوں عیسائی تھے۔ساتویں یہ کہ خط میں مضمون سے پہلے اپنا اور مکتوب الیہ کا نام لکھے۔آٹھویں یہ کہ  پہلے اپنا نام لکھے  پھر مکتوب الیہ کا اگر بڑا  آدمی فاسق ہو تو اس کی تعریف زیادہ نہ لکھے معمولی القاب لکھے۔دیکھو حضور انور نے شاہ روم کو صرف عظیم الروم لکھا یعنی جسے رومی لوگ بڑا سمجھتے ہیں۔ دسویں یہ کہ تبلیغ میں بے نیازی بھی چاہیے اور نرم کلامی بھی،رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا "فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا"فرعون سے نرم کلام کرنا۔گیارہویں یہ کہ کلام بلیغ اور مختصر بہتر ہوتاہے۔بارھویں یہ کہ کفار کے سرداروں کو عذاب بہت زیادہ ہوگا ان کی وجہ سے ان کے ماتحت لوگ بھی کافر رہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ"۔تیرھویں یہ کہ اگر اہل کتاب مسلمان ہوجائیں تو انہیں ثواب ڈبل ملتا ہے پہلے عیسائی ہونے کا پھر مسلمان ہوجانے کا۔چودھویں کہ یہ عبدیت رسالت پر مقدم ہے کہ اسی لیے عبدہ و رسولہ فرمایا گیا کہ عبدیت کا تعلق صرف رب تعالٰی سے ہے اور رسالت کا تعلق مخلوق سے بھی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان عالی کے بھیجتے وقت یہ آیت کریمہ"یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا"الخ نازل ہی نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ فرمان عالی      ۶ھ؁  میں بھیجا گیا اور آیت کریمہ کا نزول وفد نجران کے موقعہ پر ہوا یعنی       ۹ھ؁  میں یہ حضور عالی کا اپنا فرمان تھا جس کے مطابق تین سال بعد آیت کریمہ ان ہی الفاظ میں نازل ہوئی۔
Flag Counter