Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
819 - 1040
حدیث نمبر819
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سفر میں قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۲؎  تو جو خدمت میں ان سے آگے بڑھ گیا وہ لوگ کسی پر کسی عمل سے سبقت نہیں کرسکتے سواءشہادت کے ۳؎  (بیہقی شعب الایمان) ۴؎
شرح
۱؎  آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام پہلے حزن تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نام سہل رکھا،آپ ساعدی ہیں،انصاری مدنی ہیں،خود بھی صحابی ہیں خود آپ کے والد سعدبھی صحابی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ سولہ سالہ تھے پھر کافی عمر پائی،        ۹۱؁   اکیانوے ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،آپ مدینہ پاک کے آخری صحابی ہیں،آپ کی وفات پر مدینہ پاک صحابہ سے خالی ہوگیا۔(اشعہ)

۲؎  اس فرمان عالی کی دو شرحیں ہوسکتی ہیں:ایک یہ کہ سفر میں جو اپنے ساتھی مسافروں کا امیر بنے وہ ان کا حاکم نہ بنے بلکہ خادم بنے  کہ اپنے آرام پر اپنے ساتھیوں کے آرام کو مقدم رکھے اور ان کی ظاہری و اندرونی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرے اس صورت میں یہ خبر بمعنی امر ہے۔دوسرے یہ کہ سفر میں جو اپنے ساتھیوں کی خدمت کرے وہ اگرچہ بظاہر معمولی ہے مگر درحقیقت ان سب کا سردار ہے شرف خدمت سے ہے نہ کہ فقط نام سے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایک سفر میں حضرت عبداللہ مروزی کے ساتھ ابو علی نے سفر کیا حضرت عبداللہ امیرسفر بنے تو آپ اکثر ابو علی کا سامان بھی اپنی پشت پر اٹھا تے بارش ہوئی تو ابو علی پر کمبل تان کر کھڑے ہوگئے پوچھا گیا کہ یہ کیا فرمایا کہ امیر سفر کے یہ ہی فرائض منصبی ہیں یہ ہے اس حدیث پاک پر عمل۔

۳؎  یعنی سفر جہاد وغیرہ میں جو شخص اپنے ساتھیوں کی خدمت کرتا رہے گا وہ ان سب نمازیوں وغیرہم سے بڑھ جاوے گا ان لوگوں کا کوئی عمل اس خدمت سے نہیں بڑھ سکتا ہاں جو ان میں سے راہ خدا میں شہید ہوجائے گا وہ شہادت اس خدمت سے بڑھ جائے گی۔یہ فرمان عالی عقل کے بھی بالکل مطابق ہے کیونکہ اس سفر میں یہ خدمت کرنے والا نماز وغیرہ سارے کام دوسروں کی طرح کرے گا مگر خدمت یہ کرے گا دوسرے نہ کریں گے تو اس کا عمل زیادہ ہوا لہذا اس کا درجہ وثواب بھی زیادہ ہونا چاہیے۔

۴؎  اس حدیث کو حاکم نے اپنی تاریخ میں ابن ماجہ نے حضرت ابوقتادہ سے خطیب نے حضرت ابن عباس سے بھی روایت کیا۔(مرقات)
Flag Counter