Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
809 - 1040
حدیث نمبر809
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہم ایک ایک اونٹ پر تین تین تھے ۱؎ تو ابولبابہ ۲؎ اور علی بن ابی طالب رسول اللہ کے ساتھی۳؎ تھے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کی(چلنے کی)باری آتی تو یہ دونوں عرض کرتے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چل لیں گے ۴؎ تو حضور فرماتے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں اور میں ثواب سے مستغنی تم سے بڑھ کر نہیں ۵؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ چونکہ اس غزوہ میں سواریاں بہت تھوڑی تھیں حتی کہ تین سو تیرہ غازیوں میں صرف دو گھوڑے تھے اس طرح سامان جنگ برائے نام تھا تلواریں صرف آٹھ،زرہیں صرف چھ،یوں ہی اونٹ بھی بہت کم تھے اس لیے ایک اونٹ پر تین غازی باری باری سوار ہوتے تھے۔شعر

تھے ان کے ساتھ دوگھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں 	پلٹنے   آئے   تھے  یہ   لوگ   دنیا  بھر   کی    تقدیریں

۲؎ جناب ابولبابہ کا نام رفاعہ ابن عبدالمنذر ہے،انصاری ہیں اسی لیے آپ کی کنیت نام پر غالب ہے،بیعت عقبہ میں شامل تھے بدر کے شمول میں اختلاف ہے۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی۔

۳؎ زمیل بنا ہے زمل سے ز کا فتحہ میم کا کسرہ بمعنی سواری میں شریک،زمالہ سواری کے اونٹ کو بھی کہا جاتا ہے جس پر مسافر کا سامان ہو۔(مرقات) یعنی ایک اونٹ پرحضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت علی مرتضی و جناب ابولبابہ سوار تھے کہ باری باری سے سوار ہوتے تھے۔

۴؎ ان دونوں بزرگوں کا ارادہ یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بدر تک سوار رہیں ہم دونوں یہ سفر پیدل طےکریں حضور اپنی بھی سواری کریں اور ہماری باریوں میں بھی۔

۵؎ یعنی دنیا میں تم دونوں ہم سے زیادہ طاقتور نہیں ہم چلنے پر تم سے زیادہ قوت رکھتے ہیں اور آخرت میں ہم ثواب الٰہی سے بے نیاز نہیں،یہ پیدل چلنا بڑے ثواب کا کام ہے لہذا ہم اپنی باری پر پیدل چلیں گے تم سوار ہو گے،یہ ہے حضور کا عدل و انصاف اپنے غلاموں کے ساتھ اور یہ ہے حضور کا انکسار اس فرمان عالی میں قیامت تک کے سرداروں بادشاہوں کو عدل کی تعلیم ہے۔
Flag Counter