| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ لوگ جب کسی منزل میں اترتے تو گھاٹیوں اور جنگلوں میں بکھر جاتے تھے ۲؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا ان گھاٹیوں میں اور جنگلوں میں بکھرا رہنا یہ کام شیطان سے ہے۳؎ چنانچہ اس کے بعد مسلمان کسی منزل میں نہ اترے مگر اس حالت میں کہ بعض بعض سے ملے رہتے حتی کہ کہا جاتا اگر ان پر ایک کپڑا بچھا دیا جاتا تو ان پر پھیل جاتا ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کا نام جرہم ہے،کنیت ابوثعلبہ مگر آپ کنیت میں مشہور ہیں،آپ بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،حضور انور نے آپ کو اپنی قوم خشن کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا،آپ کی تبلیغ سے وہ سب لوگ مسلمان ہوگئے پھر آپ نے شام میں قیام اختیار کیا، ۷۵ھ میں انتقال کیا۔(اشعہ) مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ ۵۵ھ میں حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہما۔(مرقات و اشعہ) ۲؎ شعاب جمع ہے شعب کی بمعنی گھاٹی یا پہاڑی راستہ یعنی حضرات صحابہ کرام دوران سفر میں جب کبھی عارضی قیام فرماتے تھے تو متفرق ہوکر کچھ حضرات کہیں کچھ کہیں۔ ۳؎ یعنی تمہارے اس طرح بکھرنے سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ کفار سے تم پر چڑھائی کرادے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ متفرق ہیں ان پر اچانک ٹوٹ پڑو یہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اس طرح الگ الگ اترنا خطرناک ہے۔انما ذلکم تاکید کے لیے ہے جیسے جسمانی دوری خطرناک ہے ایسے ہی دلی دوری بھی شیطانی اثر سے ہوتی ہے اور سخت خطرناک رب تعالٰی مسلمانوں میں تنظیم اور یکجہتی نصیب کرے۔ ۴؎ سبحان اﷲ! حضور نے مسلمانوں کے صرف جسموں کو یکجا نہ فرمایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی یکجا کردیا مسلمان یک دل اور یک جان ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ مسافر منزل پر اکٹھے رہیں اس میں بہت فائدے ہیں۔ہر ایک ایک دوسرے سے خبردار رہتا ہے تعاون کرسکتا ہے۔