۱؎ دن میں آنے کے متعلق ابھی عرض کیا جاچکا سفر کو جاتے وقت مسجد سے روانہ ہونا اور واپسی پر مسجد میں پہلے آنا اگر وقت کراہت نہ ہو تو ان دونوں موقعوں پر دو نفل نماز سفر یا نماز قدوم پڑھنا سب کچھ سنت ہے اس سے سفر میں بڑی برکتیں رہتی ہیں۔
۲؎ یعنی پہلے اہل مدینہ سے ملاقات فرماتے،ان کے دکھ درد سنتے،ان کے مقدمات کے فیصلے فرماتے،انہیں شرف زیارت بخشتے،پھر گھر میں تشریف لے جاتے۔طبرانی اور حاکم نے بروایت ثعلبہ حدیث نقل فرمائی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد سے ابتدا فرماتے پھر حضرت خاتون جنت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے پھر اپنے گھر۔(مرقات)