Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
798 - 1040
حدیث نمبر798
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم رات میں آؤ تو اپنی بیوی کے نہ جاؤ ۱؎ حتی کہ وہ زیر ناف لوہا استعمال کرلیں ۲؎ اور پریشان بالوں میں کنگھی پھیرلیں ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی جب تم سفر سے اپنے شہر میں آؤ رات میں نہ جاؤ،بعض نسخوں میں یوں ہے اذا دخلت بیتك وہ اس شرح کی تائید کرتا ہے۔(مرقات)

۲؎  استحداد کے معنی ہیں حدید یعنی لوہا استعمال کرنا یعنی استرہ سے صفائی کرنا۔مغیبۃ سے مراد یا وہ عورت ہے جس کا خاوند بہت عرصہ تک غائب رہا ہو یا مغیبہ سے مراد زیر ناف کے بال ہیں۔خیال رہے کہ عورتوں کو استرہ سے صفائی کرنا ممنوع ہے لہذا یہاں استحداد سے مراد چونا بال صفا صابن وغیرہ سے صفائی کرنا مراد ہے یعنی بطریق تحدید صرف صفائی مراد ہے لوہے سے صفائی مراد نہیں۔(مرقات و اشعہ)

۳؎ یعنی سر کے پریشان بالوں کو کنگھی سے سلجھا کر یکساں کرلیں کیونکہ عورتیں اپنے خاوندوں کی لمبی غیر موجودگی میں ان چیزوں کی پرواہ کم کرتی ہیں۔مقصد یہ ہے کہ تم دیر کے بعد وطن پہنچنے پر اپنی بیویوں کو خراب حالت میں نہ دیکھو بلکہ اچھی حالت میں دیکھو اب چونکہ خط تار ٹیلی فون وغیرہ سے اطلاع دی جاسکتی ہے لہذا اب یہ حکم نہیں جب عورت کو کسی ذریعہ سے اپنے خاوند کی آمد کی اطلاع مل جائے  تویہ پابندی نہیں۔(ازمرقات)اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کو چاہیے کہ خاوند کی آمد پر اپنے کو آراستہ کرے تاکہ اسے رغبت تام ہو۔
Flag Counter