۱؎ اس کا ذکر پہلے ہوچکا کہ لواء سے مراد یا تو چھوٹا جھنڈا ہے جو ہر قوم کا الگ تھا مہاجرین کے جھنڈے کا رنگ سفید تھا یا بڑا جھنڈا مراد ہے جو لشکر کا نشان تھا۔ظاہر یہ ہے کہ وہ جھنڈے بالکل سادہ تھے ان پر کوئی نشان یا تحریر نہ تھی،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کلمہ طیبہ لاالٰہ الا الله محمد رسول الله لکھا تھا۔و الله اعلم! اب سلطنتوں کے جھنڈوں پر عموماً تحریر تو نہیں ہوتی مگر کچھ خصوصی نشان ہوتے ہیں اور مخصوص رنگ جیسے ہمارے پاکستان کے جھندے کا رنگ سبز اور سفید ہے نشان چاند تارا مگر تحریر کوئی نہیں اللہ تعالٰی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے کے صدقہ میں ہماراپاکستان اسلامستان بن جائے اس کا جھنڈا ہمیشہ بلندوبالا ہے۔