Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
768 - 1040
حدیث نمبر768
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے سبقت پر مال ۱؎  مگر تیر یا اونٹ یا گھوڑے میں ۲؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  سبق ب اور ق کے فتحہ سے وہ مال جو آگے نکل جانے والے کو دیا جائے یعنی مالی شرط لگانا کہ جیتنے والا ہارنے والے سے اتنا مال لے یہ تمام مقامات میں تو حرام ہے کہ جوا ہے مگر ان تین چیزوں میں جائز ہے کہ یہ تیاری جہاد کا ذریعہ ہے اس سے مجاہد کو تیاری جہاد کا شوق پیدا ہوتا ہے۔(مرقات) 

۲؎  یعنی تیاری جہاد کے لیے مسلمان آپس میں مقابلتًا تیر اندازی کریں اور شرط یہ ہو کہ اگر میرا تیر پیچھے رہ جائے وہ اتنی رقم آگے تیر والے کو دے،یوں ہی اونٹ یا گھوڑوں کی دوڑکرنا مالی شرط پر کہ پیچھے رہ جانے والا اتنی رقم آگے والے کو دے یہ جائز ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ تیر اندازی میں پتھر پھینکنا اور گھوڑ دوڑ میں خچروں گدھوں کی دوڑ اور خود اپنی دوڑ بھی داخل ہے کہ جہاد کی تیاری کے موقعہ پر ان چیزوں میں مقابلہ کرنا جائز ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ ان چیزوں میں دو طرف مالی شرط حرام ہے کہ جوا ہے لہذا اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ تیسرا شخص مال رکھے اور کہے کہ جو آگے بڑھ جائے اسے یہ مال ملے گا یہ جائز ہے کہ یہ جوا نہیں انعام ہے،یا فریقین میں سے ایک شخص کہے کہ اگر تو مجھ سے آگے بڑھ گیا تو تجھے اتنا مال میں دوں گا لیکن اگر میں تجھ سے آگے نکل گیا تو تجھ سے کچھ نہ لوں گا یہ بھی جائز ہے کہ یہ بھی انعام ہے جوا نہیں،باقی کبوتروں کتوں وغیرہ کے مقابلہ میں یہ بھی حرام ہے کہ بدعت ہے۔(اشعۃ اللمعات)لہذا اس حدیث کی بنا پر آج کل کی مروجہ ریس وغیرہ کو جائز نہیں کہا جاسکتا  کہ یہ خالص جوا ہے اور حرام ہے۔دو طرفہ مالی شرط کے جواز کی ایک صورت یہ ہے کہ تیسرا گھوڑا بیچ میں داخل کردیا جائے جسے محلل کہتے ہیں اس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
Flag Counter