| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ابو نجیح سلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جس نے اللہ کی راہ میں تیر پہنچایا تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے ۲؎ اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا تو اس کے لیے آزاد کیے ہوئے کے برابر ہے ۳؎ اور جو اسلام میں بوڑھا ہوا تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۴؎ بیہقی شعب الایمان اور ابوداؤد نے پہلی فصل روایت کی ۵؎ اور نسائی نے پہلی اور دوسری ۶؎ اور ترمذی نے دوسری اور تیسری ۷؎ اور ان بیہقی اور ترمذی کی روایات میں۸؎ بجائے فی الاسلام کے یوں ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جوان ہوا ۹؎
شرح
۱؎ آپ کا نام عمرو ابن عتبہ ہے،چوتھے مسلمان ہیں،اسلام لاکر اپنی قوم بنی سلیم میں لوٹ گئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمادیا تھا کہ جب تم کو ہماری ہجرت کی خبر ملے تو ہمارے پاس آجانا۔چنانچہ آپ اپنی قوم ہی میں رہے،فتح خیبر کے بعد مدینہ منورہ پہنچے اور مدینہ پاک ہی میں مقیم رہے،حضور کی بارگاہ میں مقبول تھے، آپ کے بقیہ حالات پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔ ۲؎ یعنی جو شخص کفار پر صرف تیر پھینک دے خواہ لگے یا نہ لگے تو بھی اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔معلوم ہوا کہ تیر پھینکنے سے تیر مارنا افضل ہے۔ ۳؎ یعنی جو مسلمان ہوکر جئے گھر میں یامیدان جہاد میں یعنی جوانی بڑھاپا اسلام میں گزرے تو یہ نور حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔معلوم ہوا کہ پرانا مسلمان نو مسلم سے اس جہت سے افضل ہے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ سر داڑھی سے سفید بال نہ اکھیڑے کہ یہ نور ہے۔ایک دفعہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے آئینہ دیکھا اپنے سر اور داڑھی میں سفید بال دیکھ کر فرمایا ظھر الشیب ولم یذھب العیب یعنی شیب(بڑھاپا)تو آگیا مگر عیب نہیں گئے۔(مرقات) ۵؎ یعنی حدیث کا پہلا فقرہ درجۃ فی الجنۃ تک نقل فرمایا۔ ۳؎ یعنی نسائی نے پہلا جملہ فی الجنۃ تک بھی روایت کیا اور تیسرا جملہ من شاب شیبۃً روایت فرمایا،دوسرا جملہ روایت نہ کیا ومن رمی الخ۔ ۴؎ یعنی ترمذی نے پہلا جملہ روایت نہ کیا من بلغ باقی دوفقرے روایت فرمائے۔ ۵؎ خیال رہے کہ روایتھما کی ضمیر ترمذی و نسائی کی طرف نہیں لوٹ رہی ہے کیونکہ اس نے تیسرا فقرہ روایت ہی نہیں کیا اور یہ مضمون تیسرے فقرے کا ہے۔ ۶؎ یعنی بیہقی کی ایک روایت میں تو تیسرے فقرے میں فی الاسلام ہے اور دوسری روایت میں بجائے فی الاسلام کے فی سبیل الله ہے لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں کہ ابھی تو صاحبِ مشکوۃ بحوالہ بیہقی فی الاسلام روایت کرچکے ہیں اب بیہقی کی روایت سے ہی فی سبیل الله فرمارہے ہیں۔