۱؎ اشکال شین کے کسرہ سے،لغۃً اس رسی کو کہتے ہیں جس سے گھوڑے کے پاؤں باندھے جائیں۔اصطلاح میں شکال کے کئی معنی ہیں:ایک یہ کہ گھوڑے کا ایک پاؤں یا ہاتھ سفید ہو باقی تین سیاہ یا سرخ ہوں۔دوسرے یہ کہ تین ہاتھ پاؤں سفید ہوں باقی ایک سرخ یا سیاہ تیسرے وہ جو خود یہاں مذکور ہیں۔
۲؎ یہ تفسیر یا تو راوی حدیث حضرت ابوہریرہ نے فرمائی ہے یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے۔خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ گھوڑا سیاہ یا سرخ ہو مگر اس کا داہنا ہاتھ پاؤں یا اس کے برعکس بایاں ہاتھ داہناپاؤں سفید ہوں باقی دوسرے دو سرخ یا سیاہ ہوں اس کی ناپسندیدگی کی وجہ خود ہی حضور جانتے ہیں نور نبوت سے عقل کو اس میں دخل نہیں اور ہوسکتا ہے اس رنگ کے گھوڑے عیب دار ہوتے ہیں۔ جیسی چستی چلاکی تیزی جہاد کے گھوڑے میں چاہیے ویسی اس میں نہ ہوتی ہو۔و الله و رسولہ اعلم!