۱؎ اس طرح کہ اپنے دستِ اقدس سے گھوڑے کی خدمت فرمارہے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ پیار میں اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے ہیں بالوں کو مروڑے جاتے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں۔معلوم ہوا کہ جہاد کے گھوڑوں کی خدمت اپنے ہاتھ سے کرنا بھی سنت ہے اور اس سے محبت کرنا اس کی پیشانی پر پیار سے ہاتھ پھیرنا بھی سنت ہے کیونکہ یہ آلہ جہاد ہے اور حضور کا پیارا ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں گھوڑے سے مراد جہاد کا گھوڑا ہے نہ کہ عام گھوڑے جو تانگہ میں چلانے،یا ریس میں جوا کھیلنے کے لیے پالے جاتے ہیں۔ بعض شارحین سے فرمایاکہ یہاں جنس گھوڑا مراد ہے کیونکہ یہ آلہ جہاد ہے اس پر جہاد ہوسکتاہے ۔
۳؎ یہ دونوں یا ان میں سے ایک اگر مجاہد جیت آیا تو ثواب کمالایا۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک گھوڑے جہاد میں کام آئیں گے دیکھ لو آج اس سائنس کے زمانہ میں گھوڑے خچر بہت کام آتے ہیں۔