روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک لشکر میں نکلے ۱؎ تو ایک شخص غار پرگزرا جس میں کچھ پانی اور سبزی تھی۲؎ تو اس نے اپنے دل میں سوچا کہ وہاں ہی قیام کرے اور دنیا سے الگ ہو جائے۳؎ چنانچہ اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں اجازت مانگی۴؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نہ تو یہودیت لےکر بھیجا گیا نہ عیسائیت لےکر ۵؎ لیکن میں تو آسان سیدھی ملت لے کر بھیجا گیا ۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)کی جان ہے اﷲ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام جانا دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۷؎ اور تم میں سے کسی کا صف میں کھڑا ہونا اس کی ساٹھ سال کی نمازوں سے افضل ہے ۸؎(احمد)
شرح
۱؎ سریہ سین کے فتحہ ر کے کسرہ ی کے شد سے ہے بمعنی چھوٹا لشکر جس کی تعداد چار سو تک ہو جو دشمن کی طرف بھیجا جائے۔یہ سری سے بنا ہے بمعنی خفیہ بھیجا اس لیے فرمایا کہ "اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیۡلًا"یا اسراء بمعنی اختیار سے بنا ہے۔سریہ چلی ہوئی جماعت،محدثین کی اصطلاح میں سریہ وہ لشکر ہے جس میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لے جائیں۔غزوہ وہ جہاد ہے جس میں سرکار بنفس نفیس تشریف لے جائیں۔یہاں سرکار عالی اس لشکر کو وداع کرنے تشریف لے گئے تھے نہ کہ جہاد کے لیے یا سریہ سے لغوی معنی مراد ہیں یعنی مطلقًا لشکر۔(مرقات) ۲؎ یا تو پانی کا چشمہ تھا یا بہتا پانی تھا تھوڑا جو ایک دو آدمیوں کی ضرورت کے لیے کافی ہو اور آس پاس کی زمین سبزہ زار تھی جہاں کچھ بَوکر پیداوار کرلی جائے جو اپنے اور اپنی بکریوں کے لیے کافی ہو یہ چیز ملک عرب میں بڑی ہی غنیمت ہے۔ ۳؎ یعنی ابھی یا اس جہاد کے بعد تاریک الدنیا ہو کر اس جگہ قیام کرے جذبہ یہ تھا کہ دنیا اور دنیا والوں میں مشغولیت یاد خدا میں رخنہ ڈالتی ہے اور کبھی اختلاط کی وجہ سے گناہ بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔تارک الدنیا ہوکر رہنے میں یہ دونوں چیزیں نہ ہوں گی۔ ۴؎ اگر اس جہاد میں حضور انور شریک تھے تو وہاں ہی اجازت مانگی ورنہ مدینہ منورہ واپس آکر دونوں احتمال ہیں۔ ۵؎ یعنی راہبانہ زندگی اور تارک الدنیا ہوکر رہنا عیسائیوں اور یہودیوں کے دین میں ہے اسلام میں نہیں،تم کو ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ ترک دنیا بہت شاق و دشوار ہے اور اس کا فائدہ اگر ہے تو صرف اسی ایک تارک الدنیا کو۔ ۶؎ یعنی ہمارا دین آسان ہے اور تمام برائیوں سے دور ہے۔حنیف بمعنی برائیوں سے ہٹا ہوا بچا ہوا،سمحہ بمعنی آسان۔مطلب یہ ہے کہ اسلام کے احکام نرم اور بہت فائدے مند ہیں،تم شہر میں رہو وہاں تم کو نماز پنجگانہ باجماعت،جمعہ،عیدین،جہاد،علماء کی صحبت اور اس زمانہ میں تو ہمارا دیدار بھی نصیب ہوگا،وہاں گوشہ تنہائی میں رہنے سے تم ان تمام نعمتوں سے محروم رہو گے۔ ۷؎ جہاد یا حج یا طلب دین کے لیے ایک دفعہ صبح یا شام کو نکلنا تمام دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر ہے کہ دنیا فانی ہے اور یہ ثواب باقی ووافی ہے اب تم خود سوچ لو کہ تمہارا مدینہ میں رہنا افضل ہے یا اس چشمہ پر اکیلے رہنا بہتر۔ ۸؎ یعنی ایک بار جہاد میں غازیوں کی صف میں یا نماز میں حاجیوں کی صف میں کھڑے ہوجانا بے شمار برسوں کی ان نمازوں سے افضل ہے جو اکیلے ادا کی جائیں۔جب اس صف میں کھڑے ہوجانے کا یہ ثواب ہے تو سوچو کہ خود جہاد اور باجماعت نماز کا کیا ثواب ہوگا۔یہاں ساٹھ سے مراد بے شمار ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ستر کا ذکر ہے۔اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ عام حالات میں خلوت و گوشہ نشینی کی زندگی سے جلوت کی زندگی افضل ہے۔اس کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ جن احادیث میں شہر سے بھاگ جانے گوشہ نشین ہوجانے کا مشورہ دیا گیا ہے وہ فتنوں اور بلاؤں کے زمانہ کے متعلق ہے جب کہ شہر میں دین کا خطرہ ہو۔