۱؎ اس فرمان عالی کی چند شرحیں ہیں:ایک یہ کہ غازی کا سفر جہاد سے اپنے وطن کی طرف لوٹنا بھی وہ ہی ثواب رکھتا ہے جو جہاد میں جانا رکھتا تھا۔دوسرے یہ کہ دشمن کو بہکانے کے لیے میدان جہاد سے واپس ہوجانا تاکہ دشمن مطمئن ہوکر تیاری جنگ ختم کردےپھر اچانک پلٹ کر اس پر حملہ کردیا جائے،یہ ایک جنگی چال ہوتی ہے اس کا ثواب پہلی بار میدانِ جہاد میں آنے کی طرح ہے۔تیسرے یہ کہ دشمن کا دباؤ بڑھ جانے اور اسلامی لشکر کے شکست کھاجانے کے یقین ہوجانے پر جہاد کے میدان سے واپس ہوکر اپنے مرکز میں پہنچ جانا اس کا بھی وہی ثواب ہے جو جہاد میں جانے کا ثواب تھا۔چوتھے یہ کہ دوسری تیسری بار جہاد میں جانے کا وہ ہی ثواب ہے جو اول بار جہاد میں جانے کا تھا۔خیال رہے کہ قفل اور قفول کے معنے ہیں لوٹنا،واپس ہونا،اس سے ہے قافلہ،سفر میں جانے والی جماعت کو نیک فال کے لیے قافلہ کہاجاتا ہے،یعنی خیریت سے واپس آنے والے مسافروں کی جماعت۔