Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
715 - 1040
حدیث نمبر715
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جو تو نہ جہاد کرے اور نہ غازی کو سامان دے یا غازی کے گھر میں اس کا بھلائی سے نائب نہ بنے ۱؎  اسے اﷲ تعالٰی قیامت سے پہلے سخت حادثہ پہنچائے گا ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی جو شخص یا جو لوگ ان تینوں نعمتوں سے محروم رہے نہ جہاد کرے نہ مجاہد کو سامان دے نہ مجاہد کے بیوی،بچوں کی خدمت کرے۔غالبًا روئے سخن ان لوگوں سے ہے جن کے زمانہ میں جہاد ہو اور وہ یہ تینوں کام نہ کرے اور اگر کسی کو جہاد دیکھنا نصیب ہی نہ ہو وہ اس حکم سے علیٰحدہ رہے۔

۲؎  قارعہ بنا ہے قرع سے بمعنی کھڑکانا،ٹھوکنا،اب پریشان کن مصیبت کو بھی قارعہ کہتے ہیں کہ وہ دل کو کھڑکا دیتی ہے اسی لیے قیامت کو قارعہ کہا جاتا ہے"اَلْقَارِعَۃُ  مَا الْقَارِعَۃُ"کہ وہ مخلوق کو پریشان کر دے گی جس سے عام لوگوں کے حواس جاتے رہیں گے۔
Flag Counter