۱؎ یعنی جو شخص یا جو لوگ ان تینوں نعمتوں سے محروم رہے نہ جہاد کرے نہ مجاہد کو سامان دے نہ مجاہد کے بیوی،بچوں کی خدمت کرے۔غالبًا روئے سخن ان لوگوں سے ہے جن کے زمانہ میں جہاد ہو اور وہ یہ تینوں کام نہ کرے اور اگر کسی کو جہاد دیکھنا نصیب ہی نہ ہو وہ اس حکم سے علیٰحدہ رہے۔
۲؎ قارعہ بنا ہے قرع سے بمعنی کھڑکانا،ٹھوکنا،اب پریشان کن مصیبت کو بھی قارعہ کہتے ہیں کہ وہ دل کو کھڑکا دیتی ہے اسی لیے قیامت کو قارعہ کہا جاتا ہے"اَلْقَارِعَۃُ مَا الْقَارِعَۃُ"کہ وہ مخلوق کو پریشان کر دے گی جس سے عام لوگوں کے حواس جاتے رہیں گے۔