۱؎ یعنی اسلام میں جہاد ہوتا رہے گا،کبھی منسوخ نہ ہوگا جو جہاد کا حکم منسوخ مانے وہ کافر ہے جیسے وہ جو نماز یا زکوۃ و حج وغیرہ کو منسوخ ماننے والا کافر ہے۔
۲؎ ناوی بنا ہے مناوات سے بمعنی معادات و دشمنی کرنا،نوء سے بنا بمعنی اٹھنا،یہاں مراد ہے کسی کے مقابلہ کے لیے اٹھنا،میدان میں آنا،اس میں غیبی خبر ہے کہ اﷲ تعالٰی مجاہد مسلمانوں کو کفار پر غلبہ دیتا رہے گا،اگر کبھی مغلوب ہوجاؤ تو یہ مغلوبیت اتفاقی ہوگی یا اپنی کسی غلطی کی بنا پر۔
۳؎ یہاں آخری لوگ سے مراد حضرت امام مہدی و جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مسلمان ہیں۔دجال کو مسیح اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ ممسوح العین کانا ہوگا۔یہ صفت مشبہ بمعنی مفعول ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ مسیح یعنی چھوکر لاعلاج بیماروں کو اچھا کردیتے تھے۔وہاں صفت مشبہ بمعنی فاعل ہے ۔خیال رہے کہ دجال سے اس جہاد کے بعد دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تک یہ ہی حال رہے گا آپ کی وفات کے بعد پھر کفر شروع ہوگا حتی کہ ایک ایسی ہوا چلے گی کہ ہر مؤمن کو وفات دے دے گی،صرف کفار ہی زمین پر رہ جائیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔(مرقات)