Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
690 - 1040
حدیث نمبر690
روایت ہے حضرت ابو عبس ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بندے کے پاؤں اﷲ کی راہ میں گرد آلود ہوں ۲؎ پھر آگ چھوئے ۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ انصاری صحابی ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبدالعزیٰ تھا،اسلام میں آپ کا نام عبدالرحمن ابن جبیر ہوا مگر آپ کی کنیت نام پر غالب رہی،بدر اور تمام غزوات میں شامل ہوئے،ستر سال کی عمر پائی ۳۴ھ؁  میں وفات پائی،مدینہ منورہ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(اشعہ،مرقات)

۲؎ یعنی جو شخص رضائے الٰہی کے لیے کوئی راستہ طے کرے اور راستہ طے کرنے میں اس کے قدموں پر گرد و غبار پڑے۔خیال رہے کہ اﷲ کی راہ حج،طلب علم،جنازہ کی حاضری،بیماری ، بیمار پرسی، جماعت نماز میں حاضری سب ہی کو شامل ہے مگر مطلقًا اﷲ کی راہ سے مراد سفر جہاد ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیل اﷲ وقف کیا ہے وہ کہاں استعمال کیا جائے گا،فرمایا حج میں،قرآن کریم میں  جو مصرف زکوۃ میں فی سبیل اﷲ واقعہ ہے امام ابو یوسف کے ہاں اس سے مجبور غازی مراد ہے،امام محمد کے ہاں مجبور حاجی۔(مرقات)

۳؎ یعنی ایسے شخص کو دوزخ کی آگ جلانہیں سکتی جب راہِ خدا کے غبار کا یہ عالم ہے تو غور کرو کہ خود جہاد کا فائدہ کیا ہوگا خوفِ خدا سے آنکھ کے آنسو،راہ خدا کا غبار،دوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر ہے۔
Flag Counter