| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ان دو شخصوں کے بارے میں جو حضور کی طرف میراث کا مقدمہ لائے ۱؎ کہ اس کا ان کے پاس سوا ءدعویٰ کے کوئی گواہ نہ تھا تو فرمایا کہ میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو میں اس کے لیے آگ کے ایک حصہ کا فیصلہ کرتا ہوں۲؎ اس پر ان دونوں شخصوں میں سے ہر ایک نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرا حق میرے اس صاحب کے لیے ہے ۳؎ تو فرمایا یوں نہیں لیکن جاؤ پھرتقسیم کرو اور حق کی تلاش کرو۴؎ پھر قرعہ ڈالو پھر تم میں سے ہر ایک اپنے ساجھی سے معافی مانگ لے ۵؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں ان چیزوں میں جن میں مجھ پر نزول وحی نہیں ہوا ۶؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی ایک چیز کے متعلق دو صاحبوں نے دعویٰ کیا کہ میری ہے ہر ایک یہ کہتا تھا کہ مجھے یہ چیز میرے عزیز کی میراث میں ملی ہے اور کسی کے پاس گواہ تھے نہیں۔ ۲؎ یعنی میرا شرعی فیصلہ جو ظاہر پر مبنی ہو وہ غیرمستحق کے لیے یہ چیز حلال نہ کردے گا اگر واقعی وہ سچا ہو تو لے ورنہ چھوڑ دے۔اس کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ حضور انور کے فیصلے کتنی قسم کے ہیں اور کس فیصلہ کا کیا حکم ہے۔ ۳؎ سبحان اﷲ! یہ تاثیر ہے اس زبان فیض ترجمان کی کہ ایک فرمان میں ان دونوں کے قال حال،خیال،سب اعمال بدل گئے۔ ۴؎ یعنی یہ چیز دونوں صاحب آپس میں برابرتقسیم کرلو اورتقسیم میں حق کا خیال رکھو۔توخی بنا ہے وخیٌ سے بمعنی میانہ روی جس میں نہ جلدی ہو نہ دیر اور بمعنی قصدوتحری،یہاں دوسرے معنی میں ہے۔ ۵؎ یہ درحقیقت صلح کرانا ہے فیصلہ نہیں۔سبحان اﷲ! کیا شاندارتصفیہ ہے ان دونوں میں ہر شخص کا خیال یہ تھا کہ یہ متروکہ چیز صرف میری ہے تو فرمایا کہ ہر ایک آدھی آدھی لے لو،تقسیم بالکل درست ہو اور تعیین کے لیے قرعہ ڈالو کہ کون سا حصہ کون لے،پھر تقویٰ و پرہیزگاری کے طور پر ایک دوسرے کو اپنے حق سے بری کردو کہ اگر میرا کچھ حق تیری طرف چلا گیا ہو میری طرف سے تجھے معاف اور اگر تیرا کچھ حق میری طرف آگیا ہو تو معاف کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ مجہول حق سے براءت کردینا جائز ہے احناف کا یہ قول ہے۔(مرقات) ۶؎ نزول وحی میں وحی سے عام وحی مراد ہے خواہ اصطلاحی وحی متلو ہو یا غیرمتلو یا الہام یا کشف یا کچھ اور یعنی مقدمات کے فیصلے ہم وحی یا الہام وغیرہ سے فرماتے ہیں جب کسی مقدمہ میں یہ چیزیں نہ ہوں تو اپنے اجتہاد سے فیصلہ فرماتے ہیں جس میں مدد گواہی،قسم،علامات سے لیتے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم اجتہاد فرماتے ہیں۔