روایت ہے حضرت بریدہ ۱؎ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جسے ہم کسی کام پر لگادیں پھر ہم اسے معاوضہ دے دیں تو اس کے بعد جو کچھ لے گا وہ خیانت ہے۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ بریدہ ابن خصیب اسلمی ہیں،بدر سے پہلے ایمان لائے مگر بدر میں حاضر نہ ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا،پھر بصرہ میں پھر خراسان میں غازی ہوکر رہے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں ۶۲ھ میں وفات ہوئی۔ ۲؎ یعنی اپنی تنخواہ کے علاوہ جو کچھ چھپا کرلے گا وہ چوری و خیانت ہوگا۔