Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
638 - 1040
حدیث نمبر638
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ عادل قاضی پر قیامت کے دن وہ وقت آئے گا ۱؎ کہ وہ آرزو کرے گا کہ اس نے کبھی بھی دو شخصوں کے درمیان ایک چھوہارے کے بارے میں فیصلہ نہ کیا ہوتا ۲؎(احمد)
شرح
۱؎  یوم القیامۃ یا تو لیاتین کا فاعل ہے اور یوم مرفوع اور یتمنی حال یعنی عادل حاکم پر قیامت کا دن اس حال میں آئے گا کہ وہ حاکم یہ آرزو کرے گا۔یا لیاتین کا فاعل پوشیدہ ہے وقت یا بلاء و آفۃ اور یوم القیامۃ ظرف ہے منصوب اور یتمنی اس پوشیدہ فاعل کا حال یعنی قیامت کے دن عادل حاکم پر ایسی ساعت یا آفت آجائے گی کہ وہ یہ آرزو کرے گا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں یوم القیامۃ سے پہلے ساعۃہے۔یہ گھڑی قیامت کا اول وقت ہوگا جب کہ حضرات انبیاء کرام نفسی نفسی فرمائیں گے جب حق تعالٰی کے عدل کا ظہور ہوگا،پھر شفاعت کا دروازہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے کھل جائے گا تب رب تعالٰی کے فضل کے ظہور کا وقت ہوگا،جب چھوٹے بچے فوت شدہ بھی نازکرکے اپنے ماں باپ کی شفاعت کے لیے رب تعالٰی سے جھگڑیں گے،عادل کا ذکر مبالغہ کے لیے ہے کہ جب عادل اور منصف حاکموں کے خوف کا یہ حال ہوگا تو ظالم حکام کا کیا پوچھتے ہو،ان کا حال تو بیان میں آسکتا ہی نہیں۔

۲؎ عادل حکام کی یہ آرزو اس الجھاوے اور درازی حساب کی وجہ سے ہوگی جو انہیں عدل و حکومت کے حساب دینے میں پیش آئے گی،وہ دیکھیں گے کہ دوسرے لوگ معمولی حساب دے کر جنت کو چلے گئے ہم ابھی حساب میں ہی الجھے ہوئے ہیں،جیسے حدیث شریف میں ہے کہ میری امت کے اولیاء پرگزشتہ انبیاء کرام رشک کریں گے یعنی ان کی بے فکری آزادی دیکھ کر جیسے غریبوں کی آزادانہ زندگی دیکھ کر بادشاہ رشک کرے ،قرآن کریم نے فرمایا:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"یہاں انبیاءاﷲ نہ ارشاد ہوا کیوں،اس لیے قیامت کے دن رنج و فکر و خوف سے آزادی صرف اولیاءاﷲ کو حاصل ہوگی،رہے حضرات انبیاء کرام انہیں غم جہان ہوگا یعنی ساری امت کی فکر اور ہم جیسے گنہگاروں کو غم جان لینے یعنی اپنی فکر۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی ان عادل حکام کے لیے جن کا حساب ہو،جو بغیر حساب جنتی ہوں وہ اس حکم سے خارج،جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام یا حضرات خلفاءراشدین لہذا حدیث صاف ہے واضح ہے۔
Flag Counter