Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
637 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر637
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی حاکم ۱؎  جو لوگوں کے درمیان فیصلے کرے مگر قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا پھر اس کا سر آسمان تک اٹھالے گا ۲؎  تو اگر رب فرمادے کہ اسے پھینک دے تو وہ اسے ہلاکت کی جگہ پھینک دے گا۳؎ چالیس سال کی راہ ۴؎ (احمد،ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎  حاکم سے مراد ظالم حاکم ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر حاکم مراد ہے خواہ عادل ہو یا ظالم۔

۲؎ اگر حاکم سے ظالم مراد ہے تو رأسہ کی ضمیر حاکم کی طرف ہے یعنی اس کی گردن پکڑ کے اس کا سر اوپر کو اٹھائے گا جیساکہ مجرموں کے ساتھ کیا جاتاہے اور اگر ہر حاکم مراد ہے تو رأسہ کی ضمیر فرشتہ کی طرف ہے یعنی انتظار حکم میں فرشتہ اپنا سر اوپر کو اٹھائے گا کہ مجھے کیا حکم ملتا ہے۔

۳؎  مہواۃ بنا ہے ھواء سے بمعنی خلاءوفضا،مہواۃ کے معنے ہوئے فضاوہوا کی جگہ یعنی محل ہلاکت،اس سے مراد جہنم کا گہرا گڑھا ہے جس کی گہرائی رب تعالٰی ہی جانتا ہے۔

۴؎ خریف سال کے خاص موسم کا نام ہے جو سردی وگرمی کے درمیان ہوتا ہے ربیع کا مقابل،اس سے مراد سال ہے،جزءبول کر کل مراد ہے جیسے رأس یعنی سر بول کر انسان مراد لیتے ہیں،خریف سال میں ایک ہی بار آتی ہے یعنی ایسے گہرے گڑھے میں پھینکتا ہے کہ وہ حاکم ظالم کنارہ سے گر کر چالیس سال میں اس کی تہ تک پہنچتا ہے۔خدا کی پناہ! اور اگر حاکم عادل ہے تو اس کے متعلق ارشادہوتا ہے کہ اسے جنت میں پہنچادے تو اسے اعلیٰ مقام پر پہنچادیا جاتا ہے،پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ گردن پکڑنا ظالم ہی کے لیے ہوگا،عادل حاکم تو نور کے منبر پر ہوں گے جیساکہ پہلےگزرچکا۔
Flag Counter