۱؎ اِن اگرچہ شک کے لیے آتا ہے مگر اﷲ رسول کے ایسے فرمانوں میں یقین کے لیے ہے جیسے قرآن کریم فرماتا ہے:"اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمۡ بَعْضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمْ"یا جیسے اِنۡ کَانَ مِنْ عِنۡدِ اللہِ ثُمَّ کَفَرْتُمۡ بِہٖ"۔چنانچہ جناب معاویہ سلطان اسلام بنے وہ اس خبر کا ظہور تھا جو کچھ مبارک منہ سے نکلتا ہے حق ہوتا ہے۔
۲؎ یہاں بھی اظن،بمعنی اتیقن ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"یعنی مجھے اس فرمان عالی کی بنا پر یقین ہوگیا تھا کہ مجھے حکومت یقینًا ملنی ہے ،تقدیر الٰہی یوں ہی ہے۔چونکہ تقویٰ اور عدل دونوں چیزوں اور ان کا اجتماع بہت اہم ہے اس لیے آپ نے حکومت ملنے کو مبتلا ہونا یعنی آزمائش کیا جانا فرمایا۔