Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
612 - 1040
حدیث نمبر612
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا نہیں ہے کوئی شخص جو دس یا اس سے زیادہ شخصوں کے کام کا والی بنے مگر اﷲ عزوجل اسے قیامت کے دن اس طرح لائے گا کہ اس کا ہاتھ گردن سے بندھا ہو گا  ۱؎  پھر یا اس کی نیکی کھول دے یا اس کا گناہ اسے ہلاک کردے اس کی ابتداء ملامت ہے اس کا بیچ شرمندگی ہے  اور اس کی انتہا قیامت کے دن رسوائی ۲؎
شرح
۱؎  یعنی حاکم عادل ہو یا ظالم آئے گا اس ہی حالت میں،یہ ان حکام کے لیے ہے جو نفسانی طور پر حکومت کے خواہش مند ہوں کہ یہ طلب جرم ہے،جس کی سزا یہ ہے پھر عادل چھوٹ جائیں گے اور ظالم جوتے کھائیں گے لہذا حدیث بالکل واضح ہے،اسے حضرات خلفاء راشدین یا حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام سے کوئی تعلق نہیں،دیکھو یہاں یلی ارشاد ہوا ولی نہ فرمایا گیا۔

۲؎  یعنی اس قسم کی حکومت کی ابتداء مخلوق کی ملامت ہے اور درمیان میں خود حاکم کا نفس لوّامہ اسے ملامت کرتا ہے اور اس کا نتیجہ قیامت کی رسوائی،بعض ناتجربہ کار لوگ حکام کی ظاہری شان و شوکت وتنخواہ دیکھ کر بکوشش حاکم بن جاتے ہیں،لوگ بلکہ خود ان کے قرابتدار انہیں ملامت کرتے ہیں دنیا گالیاں دیتی ہے،یہ تو دنیا کے انعام ہیں،آخرت میں جو ہوگا وہ ناقابل برداشت ہے، یزید حجاج،مروان اس حدیث کی زندہ جاوید شرح ہیں۔شعر

نہ ماند ستم گار و بد روز گار 	بماند برو لعنت پائیدار
Flag Counter